اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سفارتی پاسپورٹ کے اجرا کے لیے درخواست دے دی
“زیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی بلیک لسٹ میں شمولیت کے باوجود اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست جمع کرا دی”
خیبر پختونخوا کے زیر اعلیٰ کا نام 9 مئی کے واقعے اور دیگر قانونی مقدمات کی بنیاد پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ، جسے عام طور پر بلیک لسٹ کہا جاتا ہے، میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے 12 اگست 2025 کو ان کے لیے سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے باضابطہ درخواست دی ہے، جو ایک متنازع اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے کی وجوہات:
زیر اعلیٰ کے خلاف 9 مئی کے احتجاجی مظاہروں اور دیگر مقدمات کے تناظر میں کئی قانونی کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث ان کا نام قومی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے تاکہ ان کی ملک سے باہر روانگی پر نگرانی کی جا سکے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی درخواست:
خیبر پختونخوا کے اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 12 اگست کو زیر اعلیٰ کے لیے سفارتی پاسپورٹ کے اجرا کی درخواست موصول ہوئی ہے، جس میں ان کی سفارتی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس اقدام کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں مختلف آرا کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن کی وضاحت:
وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن یار محمد خان نیازی نے میڈیا اور متعلقہ اداروں کو صورتحال کی وضاحت فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درخواست قانونی تقاضوں اور محکمہ جاتی کارروائیوں کے تحت دی گئی ہے اور اس کا مقصد زیر اعلیٰ کو ان کے عہدے کی ضروریات کے مطابق سہولت فراہم کرنا ہے۔ یار محمد خان نے اس معاملے میں شفافیت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہر قانونی اور آئینی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
معاملے کے ممکنہ سیاسی اور قانونی پہلو:
اس اقدام سے سیاسی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ زیر اعلیٰ کا پاسپورٹ جاری ہونا قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے مقدمات کے تناظر میں جو ابھی زیر التوا ہیں۔ دوسری جانب، حکومت کا موقف ہے کہ عہدے کی حساسیت کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر ہے تاکہ زیر اعلیٰ بین الاقوامی سطح پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے سکیں۔
زیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہونا ایک سنگین معاملہ ہے، لیکن اس کے باوجود سفارتی پاسپورٹ کے اجرا کے لیے درخواست دینا ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہا ہے جسے قانونی، سیاسی، اور ادارہ جاتی نقطہ نظر سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اس معاملے کی آئندہ پیش رفت پر تمام حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔



