اقوامِ متحدہ کی کانفرنس جنیوا منتقل کرنے کا مطالبہ — ایک غیر معمولی مطالبہ یا ناگزیر ضرورت؟

امریکہ کی جانب سے فلسطینی وفد کو ویزے جاری کرنے سے انکار کے بعد، دنیا بھر سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے اہم ترین اجلاس کو نیویارک کے بجائے کسی “غیر جانبدار” اور “قانون کا احترام کرنے والے” شہر، مثلاً جنیوا میں منعقد کرنے کے مطالبات تیز ہو چکے ہیں۔

یہ مطالبہ صرف ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ کی نشاندہی ہے — کیا اقوامِ متحدہ جیسا عالمی ادارہ کسی ایسی ریاست میں بیٹھ سکتا ہے جو بظاہر اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر وفود کو روکنے کی طاقت استعمال کرے؟


پس منظر: فلسطینی وفد کے ویزے مسترد

رواں ماہ امریکی حکومت نے فلسطینی صدر محمود عباس سمیت 80 سے زائد فلسطینی نمائندوں کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے سے انکار کر دیا۔ یہ اقدام نہ صرف اقوامِ متحدہ کے 1947 کے “ہیڈکوارٹر معاہدے” کی خلاف ورزی ہے، بلکہ عالمی سفارت کاری کے ضابطوں کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے—1988 میں بھی امریکہ نے مرحوم یاسر عرفات کو نیویارک آنے سے روک دیا تھا، لیکن آج کا معاملہ مزید سنگین ہے کیونکہ پورے وفد کو شرکت سے روک دیا گیا ہے، جب کہ اجلاس میں فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے پر فیصلہ متوقع ہے۔


جنیوا کیوں؟

جنیوا کو اقوامِ متحدہ کا “یورپی ہیڈکوارٹر” تصور کیا جاتا ہے، اور وہاں پہلے ہی متعدد اہم ادارے (WHO، UNHCR، ILO) موجود ہیں۔ جنیوا کی شہرت ایک غیر جانبدار، امن پسند، اور سفارتی مرکز کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔

اس کے برعکس نیویارک — جہاں امریکہ میزبان ہے — اب ایسے ملک کے طور پر دیکھے جانے لگا ہے جو سفارتی رسائی کو اپنی خارجہ پالیسی کے تحت محدود کرنے کی صلاحیت اور نیت رکھتا ہے۔


یورپی سیاستدانوں کا ردعمل

🟩 پرک لا سین (ڈنمارک کے رکن یورپی پارلیمنٹ):

“اقوامِ متحدہ کی اخلاقی حیثیت تب ہی قائم رہ سکتی ہے جب تمام ممالک کو بغیر رکاوٹ رسائی حاصل ہو۔ اگر امریکہ ایسا نہیں کر سکتا، تو کانفرنس جنیوا منتقل کی جائے۔”

🇫🇷 فرانسیسی صدر میکرون نے کہا:

“امریکہ کا یہ اقدام عالمی قوانین اور سفارتی اصولوں کے منافی ہے۔ فرانس اس کی مذمت کرتا ہے۔”

🇹🇷 ترک صدر اردگان:

“یہ وقت ہے کہ ہم اقوامِ متحدہ کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کریں۔”


قانونی پہلو: کیا امریکہ ایسا کر سکتا ہے؟

اقوامِ متحدہ اور امریکہ کے درمیان 1947 میں طے پانے والا Headquarters Agreement یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ کو عالمی ادارے کے اجلاسوں میں شریک ہونے والے تمام ممالک کو بلا امتیاز ویزا جاری کرنا ہوگا۔

تاہم، حالیہ سالوں میں امریکہ نے سیکیورٹی، خارجہ پالیسی، یا دیگر سیاسی وجوہات کی بنا پر بعض وفود کو روکنے کی کوشش کی ہے — جو بظاہر اس معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔

اگر اقوامِ متحدہ کا مقام ہی سیاسی تعصب کی بنیاد پر ممالک کو روکنے لگے، تو ادارے کی غیر جانبداری اور فعالیت دونوں سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔


امریکی پالیسی پر تنقید

  • امریکہ کا فلسطینیوں کو روکنے کا یہ عمل اسرائیل نوازی کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • کئی ممالک اور تجزیہ کار اسے اقوامِ متحدہ پر امریکہ کے غیر متوازن اثر و رسوخ کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔

  • دنیا بھر میں ایک سوچ ابھر رہی ہے:
    “کیا اقوامِ متحدہ واقعی سب کی اقوام ہے — یا صرف بڑی طاقتوں کی؟”


عالمی رائے عامہ میں تبدیلی

✅ کئی ممالک کی عوامی اور پارلیمانی سطح پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ جیسے غیر جانبدار ادارے کو:

  • یا تو مکمل طور پر جنیوا یا کسی دوسرے غیر جانبدار ملک منتقل کیا جائے

  • یا ایسے اہم اجلاس جنیوا، ویانا، یا ہیگ جیسے شہروں میں منعقد کیے جائیں تاکہ شرکت کے حق میں رکاوٹ نہ بنے

یہ مطالبہ صرف فلسطینی مسئلے تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کے ان چھوٹے یا ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ ہے جنہیں اکثر ویزا، سیکیورٹی یا سفارتی امتیاز کا سامنا ہوتا ہے۔


نتیجہ: اقوام متحدہ کا مقام — سیاسی یا اصولی مسئلہ؟

اقوامِ متحدہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کی بنیاد ہی اس اصول پر رکھی گئی تھی کہ تمام اقوام، چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی، کمزور ہوں یا طاقتور، یکساں حیثیت رکھتی ہیں۔

لیکن جب میزبان ملک کسی قوم کو داخلہ دینے سے انکار کرے — خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس قوم کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہوں — تو ادارے کی ساکھ متاثر ہونا لازمی ہے۔

ایسے میں جنیوا جیسے شہر کو متبادل کے طور پر تجویز کرنا نہ صرف ایک عملی اقدام ہو سکتا ہے، بلکہ اقوامِ متحدہ کو دوبارہ اس کی غیر جانبدار اور عالمی حیثیت دلانے کی طرف پہلا قدم بھی ہو سکتا ہے۔


کیا آپ کے خیال میں اقوامِ متحدہ کا مقام بدلنا چاہیے؟

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں