اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے حق میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے نیویارک ڈیکلیئریشن منظور کر لی

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کے حق میں دو ریاستی حل پر مبنی نیویارک ڈیکلیئریشن کی منظوری اس طویل ترین جدوجہد میں ایک فیصلہ کن سنگ میل ہے، جس کا خواب ہر فلسطینی بچہ آنکھوں میں لے کر جوان ہوتا ہے۔


دو ریاستی حل کی تاریخی جڑیں

دو ریاستی حل کوئی نیا تصور نہیں۔ یہ سب سے پہلے 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 181 کے ذریعے پیش کیا گیا تھا، جس میں فلسطین کو دو علیحدہ ریاستوں — ایک یہودی، ایک عرب — میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی۔ مگر اس کے بعد کے عشروں میں اسرائیل کے تسلط، جنگوں، قبضوں اور امن عمل کی ناکامیوں نے اس حل کو صرف ایک تصوراتی وعدہ بنا دیا۔

اب، دہائیوں بعد، نیویارک ڈیکلیئریشن نے اس پرانی مگر طاقتور امید کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔


ڈیکلیئریشن کی بنیادی نکات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بھرپور اکثریت سے جس ڈیکلیئریشن کو منظور کیا، اس میں درج ذیل نکات نمایاں ہیں:

فلسطین کو ایک مکمل، خودمختار اور آزاد ریاست تسلیم کرنے کی حمایت

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بحالی

مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کا عندیہ

فلسطینی ریاست کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی تجویز

فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور انسانی حقوق کے مکمل تحفظ کا وعدہ

اس اعلامیے کا لُب لباب یہی ہے: فلسطینی عوام اب دنیا کے حاشیے پر نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کے مرکزی فورم پر کھڑے ہیں۔


فلسطینی عوام کی طویل جدوجہد کی عالمی توثیق

یہ اعلان محض ایک قرارداد نہیں بلکہ اس جدوجہد کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ توثیق ہے جو فلسطینی عوام نے نسل در نسل قربانیوں کے ساتھ جاری رکھی ہے۔ یہ وہی عوام ہیں جنہوں نے اسرائیلی بمباریوں، اقتصادی ناکہ بندیوں، گھربار چھن جانے، بچوں کی شہادت، اور سیاسی تنہائی کو سہتے ہوئے اپنے حقِ خود ارادیت کو زندہ رکھا۔

نیویارک ڈیکلیئریشن گویا پوری دنیا کی جانب سے فلسطینیوں کو یہ پیغام ہے: ہم تمہیں بھولے نہیں، اور تمہاری جدوجہد جائز ہے۔


میدانِ سیاست میں بدلتا ہوا بیانیہ

گزشتہ برسوں میں اسرائیل کو مغرب کی مکمل حمایت حاصل رہی، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے۔ مگر حالیہ برسوں میں عالمی بیانیہ میں واضح تبدیلی آ رہی ہے۔ اب انسانی حقوق، نسل کشی کے الزامات، غزہ میں بدترین انسانی بحران، اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

اسی بدلتے بیانیے کا نتیجہ ہے کہ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے حق میں اتنی واضح حمایت دیکھنے میں آئی۔


اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کا ردعمل

اس ڈیکلیئریشن پر اسرائیل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اسے “یکطرفہ اور غیر حقیقی” قرار دیا، اور کہا کہ اس طرح کے اعلامیے امن عمل کو مزید مشکل بناتے ہیں۔

اسرائیل کے قریبی اتحادی، خصوصاً امریکہ، نے اگرچہ قرارداد کی مخالفت تو نہیں کی، لیکن وہ عملی اقدام سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ان کی ترجیح اب بھی “براہِ راست مذاکرات” ہے، جس کا فلسطینی موقف ہے کہ وہ مذاکرات تب ہی ممکن ہیں جب طاقت کا توازن برابری کی سطح پر ہو۔


عالمی برادری کی اخلاقی آزمائش

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قراردادوں کی منظوری ایک بات ہے، مگر ان پر عمل درآمد کرانا ایک الگ اور زیادہ کٹھن مرحلہ ہے۔ نیویارک ڈیکلیئریشن کے بعد اب عالمی برادری کے سامنے یہ واضح چیلنج ہے: کیا وہ محض قراردادیں منظور کر کے خاموش ہو جائے گی، یا واقعی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات بھی اٹھائے گی؟

یہ ایک اخلاقی، سیاسی اور سفارتی آزمائش ہے — اور وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا اس امتحان میں کامیاب ہو۔


فلسطینی نوجوانوں کی امیدیں

غزہ، رملہ، نابلس، اور الخلیل کے نوجوانوں کے لیے یہ ڈیکلیئریشن صرف ایک بین الاقوامی بیان نہیں بلکہ امید کا نیا افق ہے۔ وہ نسل جو بمباریوں میں پلی، آنسو گیس میں سانس لینا سیکھا، اور دیواروں کے سائے میں جینا سیکھ گئی — اب دنیا سے سوال کر رہی ہے: کیا تم ہمیں صرف ہمدردی دو گے یا آزادی بھی؟


سلامتی کونسل کا کردار اور رکاوٹیں

اگرچہ جنرل اسمبلی کی قراردادیں اخلاقی وزن رکھتی ہیں، مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل وہ ادارہ ہے جہاں اصل طاقت ہے۔ بدقسمتی سے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے بعض ممالک، بالخصوص امریکہ، اسرائیل کے حق میں ہر ایسے اقدام کو روک دیتے ہیں جو دو ریاستی حل کے عملی نفاذ کا دروازہ کھولے۔

یہی وجہ ہے کہ نیویارک ڈیکلیئریشن کے باوجود فلسطینی عوام کو یقین نہیں کہ یہ قرارداد صرف ایک اور فائل میں بند ہو کر تاریخ کا حصہ بنے گی، یا واقعی اس کے نتیجے میں کچھ بدلے گا۔


آگے کا راستہ: باتوں سے عمل تک

اگر عالمی برادری واقعی چاہتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، دہشت گردی کا خاتمہ ہو، اور انسانی حقوق کی پامالی رک سکے، تو اب عمل کا وقت آ چکا ہے۔ اس میں شامل ہیں:

اسرائیلی توسیع پسندی اور غیرقانونی بستیوں کی روک تھام

فلسطینی سرزمین پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ

غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی امداد کی فوری فراہمی

فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت

براہ راست اور غیر مشروط امن مذاکرات کا آغاز


 امید اور احتساب کے درمیان

نیویارک ڈیکلیئریشن تاریخ کے صفحات پر ایک نئے باب کے آغاز کی علامت بن چکی ہے۔ اب یہ عالمی ضمیر پر منحصر ہے کہ وہ اس باب کو محض ایک علامتی جملہ بنا دے یا واقعی اس کے ذریعے مظلوموں کے لیے راستہ نکالے۔

فلسطینی عوام کا سوال آج بھی وہی ہے: کیا دنیا ہمیں انسان تسلیم کرے گی؟ کیا ہمارے بچوں کو بموں کے بجائے کتابیں ملیں گی؟ کیا ہم بھی اپنی زمین، اپنی ریاست، اور اپنی شناخت کے ساتھ زندہ رہ سکیں گے؟

یہ سوالات اب محض فلسطینیوں کے نہیں، پوری انسانیت کے سوال ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں