“امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے ہیں اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات میں بہتری لانی ہے”: وزیراعظم
وزیراعظم پاکستان کا عالمی سفارتی توازن کے قیام پر زور، امریکا سے بہتر روابط اور چین سے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کا عزم۔
اسلام آباد:
وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد دنیا کے تمام اہم ممالک کے ساتھ متوازن، باوقار اور مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے، بالخصوص امریکا کے ساتھ بہتر سفارتی اور اقتصادی روابط قائم کرنا اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
یہ بات وزیراعظم نے حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہی، جہاں قومی خارجہ پالیسی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک بااعتماد، مستحکم اور متحرک ریاست کے طور پر سامنے لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں، اور نئے مواقع کی تلاش کے لیے عالمی شراکت داری کو وسعت دیں۔
امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر زور
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، اور پاکستان کے لیے تجارتی، تعلیمی، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں بے شمار مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہم امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں، جو باہمی احترام، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن پر مبنی ہوں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا امریکا کے ساتھ کوئی تنازع نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کی گنجائش موجود ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو محض سیکیورٹی یا انسداد دہشتگردی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں تعلیم، توانائی، موسمیاتی تبدیلی، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں تک توسیع دی جائے۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا تسلسل
چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا “آزمایا ہوا، قابلِ اعتماد اور ہمہ وقت ساتھ دینے والا دوست” ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات وقت کے ہر امتحان میں پورے اترے ہیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ:
“پاک-چین دوستی ہماری خارجہ پالیسی کا ستون ہے، اور ہم اسے مزید مضبوط، جدید اور ہمہ گیر بنانا چاہتے ہیں۔”
وزیراعظم نے خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا ذکر کیا، جسے انہوں نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ CPEC کا دوسرا مرحلہ — جس میں صنعت کاری، زرعی ترقی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں — دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی و خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا۔
سفارتی توازن اور خودمختاری پر زور
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کسی کیمپ پالیٹکس یا سرد جنگی نظریے کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“ہماری پالیسی اصولوں پر مبنی ہے — ہم سب سے دوستی چاہتے ہیں مگر ملکی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ہم عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کے خواہاں ہیں تاکہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔”
انہوں نے سفارتی عملے کو ہدایت کی کہ وہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ باقاعدہ روابط کو فروغ دیں، اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں کو فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
ایک متوازن اور مضبوط خارجہ پالیسی کی جانب پیش قدمی
وزیراعظم کا یہ بیان پاکستان کی خارجہ پالیسی میں واضح سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک طرف وہ امریکا کے ساتھ روایتی سفارتی فاصلے کو کم کرنا چاہتے ہیں، تو دوسری جانب چین کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ متوازن حکمتِ عملی نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے بلکہ معیشت، سلامتی اور خطے میں استحکام کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔



