بلاول زرداری کا امدادی مطالبہ — دوسروں سے مانگنے کی عادت کب بدلے گی؟

بلاول زرداری کا بیان: کیا امداد صرف مانگنے کا نام ہے؟

“سیلاب متاثرین کے لئے ابھی تک عالمی برادری سے امداد کی اپیل نہ کرنا ناقابلِ فہم ہے، حکومت فوری یہ عمل شروع کرے۔ یہ ایک عالمی رواج ہے۔ ہم اِس حوالے سے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں قراردادیں لائیں گے۔”
— بلاول بھٹو زرداری

یہ بیان بظاہر ہمدردی کا اظہار ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سیاسی فرار، ذمہ داری سے گریز اور ہمیشہ کی طرح دوسروں پر انحصار کی جھلک دیتا ہے۔ جب ایک طاقتور، باوسائل، تجربہ کار سیاسی خاندان کا وارث — جس کی پارٹی 15 سال سے سندھ پر حکومت کر رہی ہے — متاثرین کے لیے صرف قراردادیں لانے کی بات کرے، تو سوال بنتا ہے:

“آپ خود کیا کر رہے ہیں؟”

 کیا عوام صرف مانگنے کے لیے رہ گئے ہیں؟

پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ یہاں کی سیاسی اشرافیہ وسائل کی مالک تو ہے، مگر ذمہ داری سے خالی۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے:

  • سیاسی جماعتیں صرف بیانات، مطالبات، اور اپیلوں تک محدود رہتی ہیں

  • فوٹو سیشن ہوتے ہیں، کیمروں کے سامنے تھالیاں، کمبل، چاول بانٹے جاتے ہیں

  • لیکن جب بات حقیقی ذاتی قربانی یا مؤثر حکومتی اقدامات کی آتی ہے، تو سب چپ ہو جاتے ہیں

بلاول کا بیان اسی رویے کی توسیع ہے۔ یہ کہنا کہ “عالمی برادری سے اپیل کرنا ایک رواج ہے” — دراصل اپنی ناکامی کا پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔


 خود کیا دیا؟ ذاتی، جماعتی یا حکومتی سطح پر؟

بلاول زرداری سے چند سیدھے اور منطقی سوال:

1. کیا آپ نے بطور چیئرمین پیپلز پارٹی یا سابق وزیر خارجہ کوئی ذاتی فنڈ قائم کیا؟

اگر نہیں، تو دوسروں سے اپیل کس اخلاقی بنیاد پر؟

2. کیا سندھ حکومت نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے کوئی بڑا، شفاف، اور غیرسیاسی ریلیف پروگرام شروع کیا؟

صرف بیانات دینے سے لوگ دوبارہ گھر نہیں بنا سکتے۔

3. کیا آپ کی پارٹی نے متاثرین کے لیے اپنی تنخواہیں، مراعات، یا سیکیورٹی اخراجات میں کمی کا اعلان کیا؟

اگر نہیں، تو عالمی برادری سے مانگنے کی اخلاقی حیثیت کمزور ہے۔


 تاریخی تناظر: پیپلز پارٹی اور سندھ میں گورننس

پیپلز پارٹی 2008 سے لے کر اب تک مسلسل سندھ میں برسرِ اقتدار ہے، یعنی:

  • 15 سال سے زیادہ حکومت

  • اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ

  • درجنوں NGOs اور امدادی اداروں سے روابط

  • فیڈرل حکومت میں کئی بار شراکت

اس کے باوجود سندھ میں:

  • سیلاب سے ہر سال تباہی ہوتی ہے

  • نکاسی آب کا نظام بدتر ہوتا جا رہا ہے

  • لوگوں کے پاس نہ گھر بچتے ہیں، نہ روزگار، نہ علاج، نہ تعلیم

یہ سب کچھ جانتے ہوئے، کیا بلاول زرداری کو پہلے اپنی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے؟


“عالمی رواج” کا مغالطہ

بلاول نے بیان میں کہا:

“عالمی برادری سے مدد مانگنا ایک رواج ہے۔”

جی ہاں، دنیا کے کئی ممالک مدد مانگتے ہیں — مگر فرق یہ ہے کہ:

  • وہ ملک شفاف نظام رکھتے ہیں

  • وہ امداد کو عوامی فلاح میں استعمال کرتے ہیں

  • ان کی قیادت خود مثال قائم کرتی ہے، تب دنیا ان کی مدد کو آتی ہے

پاکستان میں کیا ہوتا ہے؟

  • کرپشن

  • امداد کا غلط استعمال

  • سیاسی پوائنٹ اسکورنگ

  • اور پھر وہی روایتی نعرے: “ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا!”

جب قیادت خود اپنی جیب سے نہیں دیتی، جب حکومتیں صرف تصویریں بنواتی ہیں، تو دنیا بھی یہ دیکھتی ہے اور اپنا رویہ بدل لیتی ہے۔


 اس وقت پاکستان کو کیا چاہیے؟ امداد یا اعتماد؟

دنیا کی نظر میں پاکستان اس وقت:

  • معاشی بحران کا شکار ملک

  • سیاسی عدم استحکام سے دوچار

  • انتشار، عدم شفافیت، اور حکومتی نالائقی کی مثال

ایسے میں جب آپ عالمی برادری سے کہتے ہیں: “مدد کریں!”
تو پہلا سوال ہوتا ہے:

“کیا آپ نے خود اپنے وسائل استعمال کیے؟”

اگر جواب “نہیں” ہے — تو پھر کوئی سنجیدہ ملک، ادارہ یا ڈونر آپ کی بات پر کان نہیں دھرے گا۔


 خطرناک رجحان: عوام کو خیرات کا عادی بنانا

پاکستان کے سیاستدانوں نے عوام کو مطالبہ کرنے والا اور بھیک مانگنے والا ذہن دے دیا ہے۔

  • “ہمیں روٹی چاہیے”

  • “ہمیں راشن دو”

  • “ہمیں امداد چاہیے”

  • “ہمیں گھر بنا کر دو”

یہ طرزِ فکر قومی غیرت، خودداری، اور ترقی کے خلاف ہے۔
قومیں خیرات سے نہیں، خود انحصاری سے اٹھتی ہیں۔


 بلاول کو کیا کرنا چاہیے؟

  1. ذاتی طور پر ریلیف فنڈ کا اعلان کریں — جیسے عمران خان نے زلزلہ یا کورونا کے دوران کیا

  2. پارٹی فنڈز میں سے مخصوص رقم متاثرین کے لیے مختص کریں

  3. سندھ حکومت کو ریلیف کی ہنگامی ترجیح دیں، تصویروں کی نہیں، عملی کام کی

  4. پارلیمنٹ میں صرف قراردادیں نہیں، عملی بجٹ مختص کروائیں

  5. بیرونِ ملک موجود پاکستانیوں سے اعتماد کے ساتھ مدد مانگیں، لیکن شفافیت کے وعدے پر


  قیادت صرف اقتدار نہیں، قربانی کا نام ہے

بلاول بھٹو زرداری جیسے لیڈر جب محض مطالبات اور اپیلوں پر زور دیتے ہیں، تو ان کی قیادت کی ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے۔

وقت آ چکا ہے کہ:

  • پاکستان کے سیاستدان اپنی ذات سے آغاز کریں

  • پہلے خود دیں، پھر دنیا سے مانگیں

  • قوم کو مانگنے کے نہیں، دینے والے لوگ بنائیں

ورنہ تاریخ یہ ضرور لکھے گی:

“یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس سب کچھ تھا، مگر اپنے عوام کے لیے کبھی کچھ نہ دیا!”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں