جائیداد نیلامی کیس۔۔۔ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے، سپریم کورٹ کا دو ٹوک مؤقف
“انصاف میں تاخیر، انصاف کی نفی ہے” – سپریم کورٹ نے برسوں پرانے جائیداد کے نیلامی کیس میں عدالتی نظام پر سخت برہمی کا اظہار کر دیا۔
رپورٹ:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے جائیداد نیلامی سے متعلق ایک طویل عرصے سے زیرِ التوا کیس کی سماعت کے دوران انصاف میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “انصاف میں تاخیر اکثر انصاف کو ختم کر دیتی ہے۔ متاثرہ فریقین کو سالوں عدالتوں کے چکر لگوانا ایک ظلم ہے، نہ کہ قانون۔”
یہ کیس ایک رہائشی جائیداد کی نیلامی سے متعلق تھا، جسے ذیلی عدالت نے تقریباً دو دہائیاں قبل شروع کیا تھا۔ لیکن مختلف تکنیکی بنیادوں، اپیلوں اور انتظامی سستی کی وجہ سے یہ فیصلہ تاحال مکمل طور پر عملدرآمد کی منزل تک نہ پہنچ سکا۔ اس دوران، جائیداد پر قبضے، کرایہ داری تنازعات اور معاشرتی جھگڑے نے کئی نئی قانونی پیچیدگیاں جنم دیں۔
سپریم کورٹ کے ریمارکس:
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے:
“ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کا نظامِ عدل چلا رہے ہیں؟ اگر ایک عام شہری کی نسلیں انصاف کے انتظار میں گزر جائیں تو یہ عدلیہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟”
عدالت نے ماتحت عدلیہ کو ہدایت دی کہ ایسے مقدمات کی جلد از جلد نشاندہی کی جائے جو غیر ضروری تاخیر کا شکار ہیں، اور ان کے فوری فیصلے کے لیے ایک مؤثر لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
ماہرین قانون کی رائے:
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ بیان ایک سنگین حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان میں ہزاروں مقدمات برسوں بلکہ عشروں سے زیرِ التوا ہیں۔ ان میں جائیداد، وراثت، تقسیم، کرایہ داری اور انتقالِ ملکیت سے متعلق معاملات سرفہرست ہیں۔ نظامِ انصاف میں اصلاحات کیے بغیر عوام کو سستا اور فوری انصاف ممکن نہیں۔
متاثرہ فریقین کا ردعمل:
کیس کے متاثرین نے عدالت کے ریمارکس کو “امید کی کرن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اعلیٰ عدلیہ خود اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے تو شاید آئندہ نسلوں کو بہتر عدالتی نظام میسر آ سکے۔
عدلیہ کی جانب سے انصاف میں تاخیر کو انصاف کے قتل کے مترادف قرار دینا ایک واضح پیغام ہے کہ نظامِ عدل کو فوری اور مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورنہ کاغذی انصاف، حقیقت میں صرف اذیت بن کر رہ جائے گا۔




