“سلامتی کونسل میں اسرائیلی مندوب کا پاکستان پر اسامہ بن لادن کا حوالہ دینا — ایک غیر متعلقہ حملہ یا سفارتی چال؟”
سلامتی کونسل میں اسرائیلی مندوب کا پاکستان پر اسامہ بن لادن کا حوالہ دینا — ایک غیر متعلقہ حملہ یا سفارتی چال؟
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں اس وقت غیر معمولی کشیدگی دیکھنے کو ملی جب اسرائیلی مندوب نے قطر پر اسرائیل کے حملے کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایسا حوالہ دیا جسے پاکستانی مندوب نے نہ صرف غیر متعلقہ قرار دیا بلکہ اسے حقائق کے منافی اور بدنیتی پر مبنی بھی کہا۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے قطر میں کیے گئے حالیہ حملے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ اس پر اسرائیلی مندوب نے جواب دیتے ہوئے کہا: “آپ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ اسامہ بن لادن پاکستانی سرزمین پر مارے گئے تھے۔”
اس بیان نے نہ صرف بحث کے رخ کو بدل دیا بلکہ سلامتی کونسل جیسے اعلیٰ سفارتی فورم پر غیر متعلقہ حوالہ دے کر ایک پرانی اور حساس بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا۔
پاکستانی مندوب نے اسرائیلی بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر متعلقہ واقعے کو موجودہ موضوع سے جوڑنے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد اپنے حالیہ جارحانہ اقدامات سے توجہ ہٹانا ہے اور ایسا کرنے کے لیے وہ پاکستان جیسے ملک کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنا رہا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا کہ اسامہ بن لادن کا واقعہ امریکہ اور القاعدہ کے درمیان ایک مخصوص سیکیورٹی آپریشن تھا جس میں پاکستان کو باقاعدہ اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے نہ صرف اس واقعے کی مکمل تحقیقات کیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام بھی کیا۔ اس وقت پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک ہے، جس میں ستر ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا جا چکا ہے۔
اسرائیلی مندوب کے اس اندازِ گفتگو کو پاکستان نے ایک ایسی سفارتی چال قرار دیا ہے جو بین الاقوامی سطح پر اپنے اقدامات کا دفاع کرنے میں ناکامی کے بعد اپنائی گئی ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے غیر متعلقہ حوالوں کو مسترد کرے جو بحث کو اصل موضوع سے ہٹا کر ذاتی حملوں میں تبدیل کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی بیان نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ اس نے سلامتی کونسل کے وقار کو بھی مجروح کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ جیسے ادارے کا مقصد بین الاقوامی امن و امان کو فروغ دینا ہے، نہ کہ ماضی کے متنازعہ واقعات کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر الزامات لگانا۔ اس واقعے سے ایک بار پھر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا عالمی فورمز پر بحث کو منطقی، بامقصد اور حقیقت پر مبنی رکھا جا سکتا ہے یا یہ صرف طاقتور ممالک کی سیاسی بیان بازی کا میدان بن کر رہ جائیں گے۔
پاکستان کے ردعمل نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ وہ عالمی سطح پر اپنے بیانیے کو دلیل، شواہد اور اخلاقی بنیادوں پر پیش کرنا جانتا ہے۔ پاکستانی مندوب کی گفتگو نہ صرف مہذب تھی بلکہ بین الاقوامی سفارت کاری کے اعلیٰ معیار پر پوری اتری۔ اس کے برعکس اسرائیلی مندوب کا اندازِ گفتگو کئی سوالات کو جنم دے گیا، خاص طور پر اس وقت جب وہ قطر پر اپنے حملے کا جواز پیش کرنے میں ناکام نظر آ رہا تھا۔
آخر میں سوال یہ ہے کہ اگر ہر ملک ماضی کے متنازعہ واقعات کو موجودہ سفارتی بحث میں گھسیٹے گا تو عالمی نظامِ انصاف کس سمت میں جائے گا؟ کیا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جگہ اب الزام تراشی اور ذاتی حملے لے لیں گے؟ اور کیا سلامتی کونسل جیسے ادارے کا مقصد اب صرف طاقتور ممالک کی بات سننا رہ گیا ہے؟



