سینئر صوبائی وزیر کے دورے سے پہلے سڑکوں کی مرمت، شہریوں کا سخت ردعمل — “ڈوب کر مرو!”
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدید سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ ایسے میں حکومت کی طرف سے متاثرین کی مدد اور بحالی کے اقدامات انتہائی ضروری ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا تاکہ متاثرین کی حالت زار کا جائزہ لے سکیں اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر سکیں۔
تاہم، وزیر کے دورے کی تیاریوں کے حوالے سے جو واقعات سامنے آئے، وہ عام شہریوں کی مشکلات اور مایوسی کو نمایاں کر رہے ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے دورے سے پہلے ہنگامی اقدامات
وزیر مریم اورنگزیب کے دورے سے چند روز قبل مقامی انتظامیہ نے سڑکوں کی مرمت کا کام تیزی سے شروع کیا۔ خراب اور گلیوں میں پانی سے تباہ شدہ سڑکوں پر عارضی پیچنگ اور رنگ و روغن کا کام کیا جا رہا تھا۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا تھا تاکہ وزیر صاحبہ کو دورے کے دوران کسی قسم کی دقت یا مشکل پیش نہ آئے۔
یہ حکومتی رویہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں معمول بن چکا ہے جہاں دوروں کی مناسبت سے صرف دکھاوے کی تیاری کی جاتی ہے۔ اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صرف فنکارانہ شکل و صورت پر زور دیا جاتا ہے۔
شہریوں کا شدید ردعمل اور تلخ مایوسی
سیلاب متاثرہ علاقوں کے مکین اس حکومتی رویے پر سخت نالاں ہیں۔ ایک شہری نے تلخ لہجے میں کہا:
“لگتا ہے کسی بادشاہ سلامت کی آمد متوقع ہے، لوگ سیلاب میں ڈوب گئے لیکن سڑک پر پیچز لگائے جا رہے ہیں تاکہ انہیں کوئی جھٹکا محسوس نہ ہو۔ بھائی جان، پوری تحصیل ڈوب گئی، ڈوب کر مرو!”
یہ جملہ نہ صرف غصے کا اظہار ہے بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ متاثرین حکومت کی جانب سے حقیقی امداد کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومتی توجہ صرف اس وقت آتی ہے جب کوئی بڑا یا سینئر شخصیت وہاں آ رہی ہو، ورنہ روزمرہ کی مشکلات نظر انداز کی جاتی ہیں۔
متاثرین کی حقیقی مشکلات
سیلاب متاثرہ علاقوں میں کئی خاندان کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ کھانے پینے اور بنیادی طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ کئی جگہوں پر سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے امدادی سامان پہنچانا بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار وعدے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی مستقل اور مؤثر قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ ان حالات میں سڑکوں کی عارضی مرمت اور صرف دورے کی تیاری انہیں مزید مایوس کر رہی ہے۔
حکومتی ترجیحات پر سوالات
شہری اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ اگر انتظامیہ کے پاس وسائل اور مشینری موجود تھی تو یہ مرمتیں دورے سے پہلے کیوں نہیں کی گئیں؟ کیا حکومتی ترجیحات عوام کی خدمت کی بجائے صرف سیاسی اور شو آف تک محدود ہیں؟
یہ رویہ ریاستی اداروں کی بے حسی اور عوامی فلاح و بہبود کی لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ سیلاب زدگان کی حالت میں بہتری کے بجائے صرف ظاہری تبدیلیاں اور دکھاوے کی تیاری عوام کو مایوس کر رہی ہیں۔
طویل مدتی منصوبہ بندی اور بہتر انتظام کی ضرورت
سیلاب اور قدرتی آفات کے دوران موثر حکومتی ردعمل کے لیے فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ متاثرہ علاقوں کی بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی، پائیدار رہائش گاہوں کی تعمیر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر تحفظ کے اقدامات لازمی ہیں۔
صرف دوروں اور دکھاوے کی تیاری سے حالات نہیں سدھرتے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات میں تبدیلی لا کر عوام کی حقیقی مشکلات کو سمجھے اور ان کے حل کے لیے مستقل اقدامات کرے۔
سینئر صوبائی وزیر کے دورے کے موقع پر ہونے والی عارضی تیاریوں نے نہ صرف عوام کا غصہ بڑھایا بلکہ حکومتی اداروں کی عدم سنجیدگی کو بھی بے نقاب کیا۔ یہ رویہ پاکستان میں قدرتی آفات کے دوران حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے جہاں عوام کی بھلائی کی بجائے صرف سیاسی تماشے دکھائے جاتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور سیلاب زدگان کی حقیقی مدد کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، تاکہ مستقبل میں اس قسم کی مایوس کن صورتحال دوبارہ نہ پیدا ہو۔



