“عمران خان نے ہمیشہ خواتین کو باعزت مقام دیا، نہ کہ سیاست میں ان کا استحصال کیا” — صنم جاوید خان

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی متحرک رہنما صنم جاوید خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے قائد عمران خان کی خواتین کے ساتھ وابستگی، اعتماد اور عزت پر مبنی سوچ کو اجاگر کرتے ہوئے مخالفین پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خان صاحب نے ہمیشہ خواتین کو نہ صرف عزت دی بلکہ انہیں عملی طور پر قیادت میں آگے بھی لایا۔


🧕 عمران خان کی سیاست میں خواتین کا کردار ہمیشہ مرکزی رہا

صنم جاوید نے اپنے پیغام میں اس اہم نکتہ کو اجاگر کیا کہ عمران خان نے پاکستان کی روایتی سیاست سے ہٹ کر خواتین کو نہ صرف اپنی پارٹی میں عزت دی بلکہ انہیں کلیدی پوزیشنز پر تعینات کر کے قیادت کا حق بھی دیا۔
انہوں نے لکھا:

“خان نے ہمیشہ خواتین کی عزت کی، اُن کو آگے لائے۔”

یہ جملہ صرف ایک دعویٰ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی عملی مثالیں موجود ہیں جن کا ذکر صنم جاوید نے تفصیل سے کیا۔


🧭 خواتین رہنماؤں کو اہم ذمہ داریاں دینا، خان کا عملی وژن

صنم جاوید نے متعدد خواتین لیڈرز کے نام لے کر واضح کیا کہ یہ محض جذباتی باتیں نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں:

  • زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر بنایا گیا، جو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی آواز بن کر ابھریں۔

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کو پنجاب کا صدر مقرر کیا گیا، جو نہ صرف سیاسی طور پر متحرک رہیں بلکہ بطور وزیر صحت بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

  • عالیہ حمزہ ملک کو چیف آرگنائزر پنجاب بنایا گیا، جنہوں نے تنظیم سازی اور سیاسی حکمت عملی میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔

  • مشال یوسفزئی کو شدید سیاسی مخالفت کے باوجود سینیٹر بنایا، جو ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان خواتین کو ان کے حق سے روکنے والے دباؤ کو قبول نہیں کرتے۔

یہ فیصلے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ خان صاحب کی قیادت خواتین کو صرف نمائشی کردار نہیں دیتی بلکہ فیصلہ سازی اور قیادت کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔


💬 “میری خواتین بہت بہادر ہیں” — ایک قائد کا فخر

عمران خان نے بارہا اپنی تقاریر اور انٹرویوز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ:

“میری خواتین بہت بہادر ہیں”

یہ جملہ صرف ستائشی نہیں بلکہ ایک اعتماد کا اظہار ہے، جو ان خواتین کارکنان کے لیے ہے جو سیاسی جدوجہد میں جیلوں، مقدمات اور سڑکوں پر ظلم کا سامنا کرنے کے باوجود ثابت قدم رہیں۔


🔁 صنفی بغض پر تنقید: “میرا لیڈر کم ظرف مرد نہیں ہے”

صنم جاوید کے ٹویٹ کا سب سے مضبوط اور تاثر چھوڑنے والا جملہ یہ تھا:

“میرا لیڈر خواتین کے بغض کا مارا ہوا کوئی ‘کم ظرف مرد’ نہیں ہے”

یہ بیان واضح طور پر ان سیاسی و سماجی حلقوں پر تنقید ہے جو خواتین کو سیاست میں آنے پر طنز و تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔
یہ جملہ ایک جوابی بیانیہ ہے اُس طبقے کے خلاف جو خواتین کی کردار کشی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔


🧠 ٹویٹ کا سیاسی و سماجی تناظر

یہ ٹویٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب:

  • پی ٹی آئی کی خواتین رہنما اور کارکنان کو سیاسی انتقام، گرفتاریوں، اور میڈیا پراپیگنڈا کا سامنا ہے

  • مخالفین کی جانب سے خواتین پر ذاتی حملے، تضحیک آمیز بیانات اور کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے

  • صنم جاوید خود بھی جیل اور عدالتوں کے مراحل سے گزر چکی ہیں، اور اس جدوجہد کو قریب سے دیکھ چکی ہیں

ایسے وقت میں ان کا یہ بیان سیاسی نظریاتی جنگ کا حصہ بن گیا ہے، جو ایک ایسی قیادت کا دفاع کر رہا ہے جو خواتین کو بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ سمجھتی ہے۔


📌 نتیجہ: قیادت کی پہچان صرف فیصلوں سے نہیں، ظرف سے بھی ہوتی ہے

صنم جاوید کا یہ ٹویٹ صرف ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک سیاسی اخلاقیات کا مقدمہ بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان وہ لیڈر ہیں جو خواتین کو سیاسی شراکت دار سمجھتے ہیں، نہ کہ خاموش حمایتی۔ وہ کسی مردانہ انا یا کم ظرفی کا شکار نہیں، بلکہ خواتین کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنے نظریے کی بنیاد سمجھتے ہیں۔

صنم جاوید کی یہ ٹویٹ صرف ایک لیڈر کی تعریف نہیں، بلکہ موجودہ سیاسی ماحول میں ایک سماجی مؤقف بھی ہے:
سیاست میں خواتین کی شمولیت، ان کی عزت، اور قیادت میں ان کا حق — یہ وہ اصول ہیں جن پر خان کی سیاست کھڑی ہے، اور صنم جاوید جیسے کارکنان اسے سینے سے لگائے کھڑے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں