غزہ کے لیے امید لے جانے والا قافلہ ظلم کا نشانہ بن گیا — گلوبل صمود فلوٹیلا پر ڈرون حملے نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
غزہ امدادی فلوٹیلا پر ڈرون حملہ — سوالات، صدمہ اور عالمی خاموشی
غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیشِ نظر دنیا بھر کے سماجی کارکنان، طبی ماہرین، اور انسانی حقوق کے نمائندے امداد لے کر نکلے تھے، مگر بدقسمتی سے وہ بھی جنگی جنون کی زد میں آ گئے۔
گلوبل صمود (Global Sumud) نامی فلوٹیلا، جو غزہ کے محصور عوام کے لیے طبی و غذائی امداد لے کر روانہ ہوئی تھی، پر ڈرون حملہ کر دیا گیا ہے — جس کی تصدیق فلوٹیلا انتظامیہ نے کی ہے۔
🛥️ فلوٹیلا مشن: امن اور انسانیت کا قافلہ
“گلوبل صمود” مشن ایک پرامن اور غیرمسلح امدادی قافلہ تھا، جس کا مقصد غزہ کے بیمار، زخمی اور بھوکے شہریوں تک بنیادی سہولیات پہنچانا تھا۔ اس مشن میں:
-
مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، امدادی کارکن، اور صحافی شامل تھے
-
کشتی پر ادویات، خوراک، پینے کا صاف پانی، اور دیگر ضروری اشیاء موجود تھیں
-
فلوٹیلا نے مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سفر شروع کیا تھا
مگر اس کے باوجود اس قافلے کو نشانہ بنایا گیا، جو عالمی قوانین اور انسانی ضمیر دونوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
💣 حملے کی تفصیل: کیا ہوا؟
فلوٹیلا انتظامیہ کے مطابق:
-
فلوٹیلا پر حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا
-
کشتی کو نشانہ بنایا گیا، کچھ سامان تباہ ہوا
-
خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، مگر عملہ شدید خوف و صدمے کا شکار ہے
-
حملے کے بعد کشتی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، اور عملے کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے
ابھی تک حملے کی ذمہ داری کسی ریاست یا گروپ نے قبول نہیں کی، مگر خدشات کا رخ ایک ہی جانب جاتا ہے۔
📜 بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی؟
یاد رہے کہ:
-
بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی امداد لے جانے والے قافلوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے
-
اقوام متحدہ کی قراردادوں میں غزہ کو بنیادی انسانی امداد کی فراہمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے
-
فلوٹیلا حملے جیسے واقعات انسانی ہمدردی کی روح کو روندنے کے مترادف ہیں
تو سوال یہ ہے: عالمی برادری کیوں خاموش ہے؟
🌍 عالمی ردِعمل: سوالیہ خاموشی؟
تاحال بڑے عالمی اداروں یا اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی مؤثر ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حملے کو “غیر انسانی اور ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے، مگر حکومتیں خاموش ہیں۔
یہ رویہ عالمی نظامِ انصاف اور ضمیر کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
💬 عوامی ردِعمل اور سوشل میڈیا
دنیا بھر سے سوشل میڈیا پر:
-
#GazaFlotillaAttack
-
#GlobalSumudUnderAttack
-
#HumanitarianMissionTargeted
جیسے ہیش ٹیگز کے تحت آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔
لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا غزہ کے مظلوم صرف اس لیے مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے ہیں کہ وہ فلسطینی ہیں؟
🧭 نتیجہ: انسانیت پر حملہ
گلوبل صمود جیسے مشنز پر حملہ صرف ایک کشتی پر نہیں، بلکہ امید، انسانیت، اور انصاف پر حملہ ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
جب ظالم کی طاقت بولتی ہے اور مظلوم کی فریاد دب جاتی ہے، تب انسانی ضمیر کی آزمائش شروع ہوتی ہے۔
📣 کیا ہم خاموش رہیں گے؟
-
کیا دنیا ایک بار پھر ایک فلوٹیلا حملے کو نظرانداز کر دے گی؟
-
کیا انسانی ہمدردی کو سیاسی مفادات کے نیچے دفن کر دیا جائے گا؟
-
کیا اقوام متحدہ صرف بیان بازی تک محدود رہے گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ہم سب کو اپنے ضمیر سے پوچھنے ہوں گے۔




