غیر روایتی رویہ، روایتی کھیل میں سب کی توجہ کا مرکز بن گیا

 کرکٹ کا اصل حسن باہمی عزت میں ہے، مگر جب یہ ہی غائب ہو جائے تو تماشائی صرف کھیل نہیں، رویے بھی دیکھتے ہیں

کرکٹ محض گیند اور بلے کا کھیل نہیں، یہ ایک رویے، تہذیب، اور باہمی احترام کی علامت بھی ہے۔ “جنٹلمینز گیم” کہلانے والا یہ کھیل نہ صرف کھلاڑیوں کی مہارت بلکہ ان کی شخصیت کا بھی آئینہ دار ہوتا ہے۔ تاہم، حالیہ واقعہ میں سلمان علی آغا اور سوریا کمار یادو کے درمیان برتی جانے والی سرد مہری نے اس خوبصورت کھیل کے دامن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔


واقعے کی تفصیل: نہ ٹاس پر ہاتھ ملایا، نہ بعد میں رسمی مصافحہ ہوا

یہ سب اس وقت شروع ہوا جب سلمان علی آغا اور سوریا کمار یادو ایک میچ کے دوران ٹاس کے لیے میدان میں اترے۔ ٹاس کا لمحہ ہمیشہ ہی دوستانہ اور پروفیشنل ہوتا ہے جہاں کھلاڑیوں کے چہرے پر مسکراہٹیں، ہلکی پھلکی گفتگو اور مصافحہ شامل ہوتا ہے۔

مگر اس بار کچھ مختلف ہوا—ٹاس کے دوران نہ تو دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھایا، نہ کوئی مسکراہٹ، نہ کوئی خیرسگالی کا اظہار۔ بس ایک رسمی خاموشی اور سرد مہری کا ماحول نظر آیا۔ شائقین نے فوراً اس بات کو محسوس کیا اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں۔

بعد ازاں، جب سلمان علی آغا روی شاستری سے گفتگو مکمل کرکے واپس جا رہے تھے، تو سوریا کمار یادو ان کے سامنے کھڑے تھے۔ اس لمحے کو بھی کیمرے نے محفوظ کر لیا—دونوں کھلاڑی آمنے سامنے ضرور آئے، مگر نظر تک نہیں ملائی، اور نہ ہی کوئی رسمی مصافحہ ہوا۔ یہ منظر عام تماشائی کے لیے بھی حیران کن تھا، جو میدان میں کھیل کے علاوہ کھیلنے والوں کے رویے سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔


سوال یہ ہے: آخر ایسا کیوں ہوا؟

اس واقعے کی کوئی سرکاری تصدیق یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔ نہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) اور نہ بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) نے اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے بھی مکمل خاموشی ہے، جس نے چہ مگوئیوں کو مزید ہوا دی ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ مختلف مفروضات بیان کر رہے ہیں:

  • کیا یہ ذاتی ناراضی کا اظہار تھا؟

  • یا کسی حالیہ واقعے کا اثر؟

  • یا پھر دونوں کھلاڑی محض شدید مقابلے کے تناؤ میں تھے؟

جو بھی ہو، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ جیسے باوقار کھیل میں ایسا رویہ غیر متوقع اور غیر روایتی تھا۔


شائقین کا ردِعمل: “یہ کرکٹ ہے یا سیاست؟”

ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب پر شائقین کے ردعمل کا سیلاب آ گیا۔ کئی لوگوں نے دونوں کھلاڑیوں کے رویے کو “بچگانہ”، “غیر پیشہ ورانہ” اور “غیر ضروری ڈرامہ” قرار دیا۔ کچھ نے یہاں تک کہا کہ:

“اگر ہاتھ نہ ملانا ہی رویہ بن جائے تو کھیل کا احترام ختم ہو جائے گا۔”

کچھ بھارتی شائقین نے سوریا کمار یادو کی حمایت کی، جبکہ پاکستانی صارفین نے سلمان علی آغا کے حق میں دلائل دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی غیر جانبدار صارفین نے دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یاد دلایا کہ:

“کھیل سے بڑا کوئی کھلاڑی نہیں ہوتا۔”


ماہرین کرکٹ کی رائے: پروفیشنلزم کی ضرورت

سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ:

“کھلاڑیوں کو ذاتی جذبات کو میدان میں لانے سے گریز کرنا چاہیے۔”

بھارتی سابق بلے باز محمد کیف نے بھی اپنی رائے دی:

“اگر ہم نئی نسل کو مثبت پیغام دینا چاہتے ہیں، تو ایسے مناظر سے اجتناب کرنا ہوگا۔”

یہ خیالات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ کھیل کے ماہرین رویے کو بھی کارکردگی جتنا اہم سمجھتے ہیں۔


سپورٹس مین اسپرٹ: کیا ہم بھول چکے ہیں؟

کھیل میں جیت یا ہار وقتی ہوتی ہے، مگر رویے یاد رہ جاتے ہیں۔ وسیم اکرم اور سچن ٹنڈولکر کی دوستی، شعیب اختر اور سہواگ کے درمیان ہنسی مذاق، یا بریٹ لی اور انضمام الحق کے درمیان احترام—یہی وہ لمحات ہیں جو کرکٹ کو خاص بناتے ہیں۔

مگر جب ایسے مناظر کے بجائے ٹھنڈے رویے، نظریں چرانا اور خاموش فضا دیکھنے کو ملے، تو یہ نہ صرف کھیل کے حسن کو متاثر کرتا ہے بلکہ نئی نسل کے لیے غلط پیغام بھی ہوتا ہے۔


 خاموشی بھی کبھی کچھ کہہ جاتی ہے

اگرچہ یہ محض ایک لمحہ تھا، مگر اس کی گونج طویل عرصے تک سنائی دے سکتی ہے۔ کرکٹ کے میدان میں جیتنے والا ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے، مگر وہ کھلاڑی جو وقار اور عزت کے ساتھ کھیلتا ہے، وہ دل جیتتا ہے۔

سلمان علی آغا اور سوریا کمار یادو بلاشبہ باصلاحیت کھلاڑی ہیں، مگر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف گیند اور بلے سے نہیں، بلکہ اپنے کردار سے بھی کرکٹ کو بہتر بنائیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں