مریم نواز کے بیانات حقیقت سے دور اور سیاسی پروپیگنڈے کا حصہ ثابت

مریم نواز نے میانوالی میں ایک ایسا بیان دیا ہے جو حقیقت سے مکمل طور پر بعید ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2021 اور 2022 میں وزیراعظم سیلاب زدہ علاقوں کے صرف فضائی دورے کرتے رہے، لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی سخت نفی کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہے کہ 2021 میں پاکستان میں کوئی سنگین سیلابی صورتِ حال نہیں تھی، لہٰذا اس سال کے حوالے سے مریم نواز کا بیان نہ صرف غیر مستند بلکہ گمراہ کن ہے۔ مزید یہ کہ 2022 کے شدید سیلاب کے وقت وزیراعظم شہباز شریف تھے، اور وہی اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے زمینی اقدامات کرتے رہے، نہ کہ نواز شریف یا ان کے حامیوں کے نام سے جانے والے کوئی وزیراعظم۔

یہ بیان مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس میں وہ حقائق کو پس پشت ڈال کر سیاسی مخالفین کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسے جھوٹے بیانات سے نہ صرف سیاسی بحث میں شفافیت ختم ہو جاتی ہے بلکہ عوام میں غلط فہمی بھی پھیلتی ہے۔ قدرتی آفات جیسے سیلاب پر سیاسی مباحثہ ہونا لازمی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقائق کو توڑا جائے یا اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنانے کے لیے جھوٹ بولے جائیں۔

مریم نواز کا یہ رویہ سیاست کی اخلاقیات کے منافی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملک کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ بات قابل افسوس ہے کیونکہ سیلاب جیسے قومی بحران میں سیاسی قیادت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ متحد ہو کر عوام کی مدد کرے نہ کہ ایک دوسرے پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ مریم نواز کی جانب سے کی گئی یہ باتیں عوام کی بھروسہ شکنی اور سیاسی انتقام کی سیاست کی عکاس ہیں۔

معروف صحافی حامد میر نے بھی اس بیان کی کھل کر تردید کی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معیاری اور حقیقت پسند میڈیا بھی اس طرح کے سیاسی پروپیگنڈے کو قبول نہیں کرتا۔ اس طرح کے بیانات صرف سیاسی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور ملکی مسائل کو پیچیدہ کر دیتے ہیں۔

اگر مریم نواز واقعی ملک کے مفاد میں کام کرنا چاہتی ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر سیاست کریں، جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے گریز کریں اور عوام کی خدمت کو اپنا اولین ہدف بنائیں۔ اس کے بغیر وہ نہ صرف اپنی سیاسی ساکھ کھو دیں گی بلکہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بھی منفی اثر ڈالیں گی۔

آخر میں، سیاسی قائدین کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو ذاتی سیاسی مقاصد سے بالاتر رکھیں اور ملک کی بہتری کے لیے مل کر کام کریں تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ جھوٹ اور غلط بیانی کی سیاست سے ملک کو صرف نقصان پہنچتا ہے، جو ہم سب کو سمجھنا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں