نیپال میں زی جنریشن اور نیپو کڈز کی جنگ اشرافیہ کے خلاف ایک بےمثال بغاوت میں بدل چکی ہے
نیپال میں زی جنریشن بمقابلہ نیپو کڈز: ایک نئی بغاوت، ایک نیا انقلاب
نیپال میں زی جنریشن اور نیپو کڈز کی جنگ اشرافیہ کے خلاف ایک بےمثال بغاوت میں بدل چکی ہے، جہاں نہ حکومت باقی ہے، نہ قانون، اور نہ ہی خوف۔
نیپال: ایک ملک، دو طبقے، ایک خونی لکیر
نیپال اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاستی نظم و نسق مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
ملک میں دو واضح اور متصادم طبقے سامنے آ چکے ہیں:
-
زی جنریشن: 1997 سے 2013 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل، جو تعلیم، ٹیکنالوجی اور بیداری سے لیس ہے۔
-
نیپو کڈز: وہ مراعات یافتہ طبقہ جو خاندانی اثر و رسوخ، کرپٹ نظام اور سفارشی کلچر کے سہارے ہر اہم مقام پر قابض ہے۔
زی جنریشن کا غصہ: صرف نیپو کڈز کے خلاف
یہ کوئی روایتی احتجاج نہیں۔
یہ نہ کسی سیاسی جماعت کا کھیل ہے، نہ کسی عالمی ایجنڈے کی سازش۔
یہ ہے ایک غریب، محروم، اور نظرانداز شدہ نوجوان نسل کا پُرجوش اور بےقابو غصہ۔
-
مظاہرین صرف اور صرف اشرافیہ کی املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
-
عام آدمی، غریب شہری یا چھوٹے کاروبار محفوظ ہیں۔
-
نعرہ ایک ہی ہے:
“نیپو کڈز ہمارا حق کھا رہے ہیں، اب ان کا حساب وقت کرے گا!”
اشرافیہ کی بے بسی: حکومت مفلوج، وزراء لاپتہ
-
پچھلے 10 گھنٹے سے ملک میں کوئی فعال حکومت موجود نہیں۔
-
متعدد وزراء یا تو عوامی غصے کا شکار ہو چکے ہیں یا تھائی لینڈ کی سفارتخانوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔
-
ایک وزیر تو مساج سینٹر میں جا گھسا، اور زی جنریشن باہر کھڑی ہے کہ کب وہ باہر نکلے۔
یہ تمام حالات ظاہر کرتے ہیں کہ اشرافیہ اب عوام کے سامنے بےبس ہے۔
نیپالی فوج: دفاعی تنصیبات کی محافظ، عوام سے خوفزدہ
نیپالی فوج کی حالت پنجاب پولیس سے بھی بدتر ہو چکی ہے:
-
نہ مارشل لاء لگانے کی ہمت
-
نہ مظاہرین کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی
-
آرمی چیف نے خود ایک ویڈیو میں عوام سے “ترلے” کیے کہ “بس کرو”
فوج صرف سرکاری عمارتوں کی حفاظت تک محدود ہے، باقی سڑکوں پر زی جنریشن کا راج ہے۔
جلاؤ گھیراؤ کا منظر: پلازے، مالز، ہوٹلز خاکستر
-
اشرافیہ کے شاپنگ مالز، ہوٹلز، اور دفاتر کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔
-
دن میں درجنوں جگہوں پر دھماکے، آگ، اور توڑ پھوڑ کے واقعات۔
-
عوامی املاک یا چھوٹے کاروبار کو کسی قسم کا نقصان نہیں دیا جا رہا۔
یہ ہے تبدیلی کی وہ شکل جو صرف نعرے بازی پر یقین نہیں رکھتی — بلکہ عمل کرتی ہے۔
نئی قیادت کا انتظار: سول انجینئر کی خاموشی
ایک 28/30 سالہ نوجوان انجینئر جو سول لیڈر کے طور پر پہچانا جا رہا ہے، اس وقت سب کی نظریں اس پر ہیں۔
-
زی جنریشن اسے اپنا ممکنہ قائد تصور کر رہی ہے۔
-
لیکن وہ تاحال کوئی واضح سیاسی قدم نہیں اٹھا رہا۔
-
لگتا ہے وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا ہے — یا شاید عوامی ردعمل کا۔
اگر یہ نوجوان قیادت سامنے آ گئی، تو ممکن ہے کہ نیپال میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ جنم لے۔
عالمی اثرات: بنگلہ دیشی انقلاب سے متاثر
نیپال کے عوام بالخصوص زی جنریشن بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی انقلاب سے متاثر نظر آتے ہیں۔
-
اسی لیے بنگلہ دیش کے سفیر کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
-
عوامی نعرے اور احتجاجی انداز ڈھاکہ کے دھڑن تختے سے مشابہ ہیں۔
یہ اشارہ ہے کہ نیپالی عوام علاقائی تبدیلیوں سے نہ صرف باخبر ہیں بلکہ متاثر بھی۔
کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں: صرف انصاف کا مطالبہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے احتجاج میں:
-
نہ کمیونزم کا نعرہ سنائی دیا
-
نہ سوشلسٹ تحریک کی بازگشت
-
نہ اسلامی انقلاب کی بات
-
نہ ہی کوئی مغربی ایجنڈا
یہ ہے ایک خالص نیپالی بغاوت، جو صرف اس نعرے پر مرکوز ہے:
“نیپو کڈز نے ہمارا مستقبل چرایا ہے، اب ہم ان کا حال برباد کریں گے!”
آگے کیا ہوگا؟ زی جنریشن کے فیصلے باقی ہیں
-
اگر نوجوان قیادت نے قدم اٹھا لیا، تو نیپال میں ایک نئی سیاسی تحریک جنم لے سکتی ہے۔
-
اگر زی جنریشن قابو میں نہ آئی، تو بیرونی مداخلت بھی ممکن ہے۔
-
اور اگر اشرافیہ نے دوبارہ زور لگایا، تو خونریزی بڑھ سکتی ہے۔
یہ وہ موڑ ہے جہاں سے یا تو نئی تاریخ لکھی جائے گی
یا پھر نیپال کئی سال پیچھے دھکیل دیا جائے گا۔
نیپال کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
-
اگر نوجوان نسل کو مسلسل نظر انداز کیا جائے،
-
اشرافیہ عیاشی میں ڈوبی رہے،
-
اور حکومتیں کرپشن کی چھتری تلے نظام چلائیں،
تو ایک دن زی جنریشن کا انقلاب دروازے پر دستک نہیں دیتا — بلکہ دروازہ توڑ دیتا ہے۔



