نیپال کی سیاسی انارکی کے بعد پاکستانی میڈیا کو محتاط اور ذمہ دار رپورٹنگ کی تلقین کی گئی تاکہ ملک میں مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
“نیپال میں سوشل میڈیا پابندی کے خلاف زبردست احتجاج، سابق وزیراعظم کے گھر کو نذر آتش، چار وزرا مستعفی”
نیپال میں سیاسی انارکی کا منظرنامہ
نیپال میں تخت و تاج اُچھلنے والا واقعہ سیاسی عدم استحکام کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے خطے میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس قسم کی انارکی کسی بھی ملک کی سیاسی و سماجی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے مضر اثرات آس پاس کے ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔ نیپال کی یہ سیاسی بے چینی ایک ایسی صورتحال ہے جس کی کوریج ہر ملک کے میڈیا کے لیے چیلنج ہوتی ہے، خاص طور پر اس خطے میں جہاں سیاسی حساسیت اور عوامی جذبات بلند ہوتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا پر توقعات اور خدشات
نیپال میں اس بحران کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستانی میڈیا سری لنکا اور بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی کشیدگی کی کوریج کی طرح نیپال کے واقعات کو بھی جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ انداز میں پیش کرے گا۔ اس حوالے سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ میڈیا کی اس طرح کی رپورٹنگ سے قوم میں اضطراب اور خوف کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جو ملک کے داخلی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
نیپال کی انارکی کے مضر بصری اثرات
نیپال سے سامنے آنے والی تصاویر اور رپورٹس میں سیاسی انتشار اور انارکی کے واضح آثار نظر آتے ہیں۔ ایسے مناظر نہ صرف نیپال کے عوام کے لیے خطرناک ہیں بلکہ ان کے مضر بصری اثرات پڑوسی ممالک میں بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی اور سماجی حساسیت زیادہ ہے۔ یہ اثرات اگر میڈیا میں غیر ذمہ داری کے ساتھ پیش کیے جائیں تو عوامی ذہنوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہو سکتا ہے۔
ذمہ دار اور بردبار میڈیا کی اہمیت
ماہرین نے پاکستانی میڈیا کو واضح طور پر کہا ہے کہ وہ نیپال کے سیاسی بحران کی کوریج میں ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کرے۔ اس کا مطلب ہے کہ میڈیا کو حقائق کو درست طریقے سے پیش کرنا چاہیے، بغیر کسی مبالغہ آرائی یا جذباتی ردعمل کے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ قوم کو حقائق پہنچائے، نہ کہ انہیں خوف یا انتشار میں مبتلا کرے۔ یہی ذمہ داری میڈیا کی پالیسیوں اور رپورٹس میں عکاسی ہونی چاہیے تاکہ سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔
پاکستانی میڈیا کا چیلنج اور عوامی ذمہ داری
پاکستانی میڈیا آج ایک حساس دور سے گزر رہا ہے جہاں اس کی رپورٹس اور تبصرے عوام کی رائے اور رویے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایسے میں میڈیا کا چیلنج یہ ہے کہ وہ نہ صرف خبروں کی درستگی اور توازن پر توجہ دے بلکہ قومی مفاد میں بھی کام کرے۔ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کی ذمہ داری کو سمجھیں اور ہر خبر کو محتاط انداز میں قبول کریں تاکہ نفرت اور انتشار نہ پھیلے۔
معاشرتی استحکام کے لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت
نیپال میں سیاسی انارکی کے واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی حفاظت کے لیے میڈیا کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ پاکستانی میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسے حساس موضوعات پر محتاط، ذمہ دار اور بردبار رپورٹنگ کرے تاکہ قوم کو مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔ اس طرح کی رپورٹنگ نہ صرف عوام کو صحیح معلومات فراہم کرے گی بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔



