“پاکستان نسل کشی کرنے والوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتا، ہم اپنی خودمختاری کا دفاع جانتے ہیں!”
پاکستان کا واضح مؤقف: “نسل کشی کرنے والوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دیتے”
اسرائیلی وزیراعظم کے متنازع بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل
پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کو نہ صرف بے بنیاد قرار دیا بلکہ اسے مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ “ہم نسل کشی کرنے والوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دیتے۔”
یہ بیان دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دیا، جہاں اُن سے اسرائیلی وزیراعظم کے 9/11 اور اسامہ بن لادن سے متعلق بیان پر سوال کیا گیا۔
اسرائیلی جارحیت: خطے کے امن کے لیے خطرہ
ترجمان دفتر خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ دھمکی آمیز بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:
“پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی ملک کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”
دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیل کی طرف سے قطر پر کیا گیا حالیہ حملہ خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان نے اسے نہ صرف اشتعال انگیزی قرار دیا بلکہ عالمی سطح پر اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
اقوام متحدہ میں سرگرم سفارت کاری
پاکستان نے اسرائیل کی اشتعال انگیزی کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر درخواست دی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ:
“اسرائیل کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان کا فوری سدباب ضروری ہے۔”
دفتر خارجہ نے کہا کہ قطر پر بمباری کو ریاستی دہشتگردی تصور کیا جا رہا ہے، اور پاکستان ہر فورم پر قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔
مسلم اُمہ سے مکمل یکجہتی
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ مسلم اُمہ کے ساتھ بھرپور یکجہتی کے عزم پر قائم ہے اور عرب او آئی سی سربراہی اجلاس میں مشترکہ ردعمل پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا:
“پاکستان قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اور او آئی سی کے تحت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔”
اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد و اتفاق کو ترجیح دیتا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
انڈیا کو سخت پیغام: “سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کریں”
بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی طرف سے دریاؤں میں آنے والے حالیہ سیلابی پانی کی ناکافی معلومات فراہم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:
“انڈیا نے اس بار طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے سفارتی ذرائع استعمال کیے، جو معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔”
پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل عملدرآمد کرے تاکہ خطے میں آبی تنازعات سے بچا جا سکے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح اور خودمختار
دفتر خارجہ کی حالیہ بریفنگ سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں نہ صرف اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کر رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور یکجہتی کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔
پاکستان نے جہاں اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کیا، وہیں بھارت کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کی بھی مضبوط وکالت کی۔ یہ تمام بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا جانتا ہے بلکہ عالمی سفارتی محاذ پر ایک متوازن اور باوقار کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔



