پاکستان نے چین کی جانب سے مشترکہ سکیورٹی فورس کے قیام کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اپنے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر زور دیا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی تعاون کا معاملہ
پس منظر
پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے ذریعے مستحکم ہوئے ہیں۔ اس راہداری کے تحت ہزاروں چینی شہری پاکستان میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کو عسکریت پسندوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
چین کی جانب سے سکیورٹی فورس کی تجویز
چین نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ سکیورٹی فورس قائم کرے یا چینی سکیورٹی اہلکاروں کو پاکستان میں تعینات کرنے کی اجازت دے۔ یہ درخواست خاص طور پر کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے اور مارچ 2024 میں ہونے والے دھماکے کے بعد کی گئی تھی، جن میں متعدد چینی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔ چین نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے۔
پاکستان کا موقف
پاکستان نے چین کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح لیس ہیں اور وہ پہلے سے ہی اس پر قابو پا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس کا تبادلہ اور خیالات کا تبادلہ وقتاً فوقتاً ہوتا رہتا ہے، لیکن چینی سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
سکیورٹی اقدامات
پاکستان نے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں خصوصی سکیورٹی ڈویژن کا قیام، سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، اور حساس علاقوں میں سکیورٹی کی نگرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے جنوب مغربی صوبے، جہاں گوادر واقع ہے، میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے چینی منصوبوں کی حفاظت کے لیے دسیوں ہزار فوجی، نیم فوجی دستے اور پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔
پاکستان اور چین کے درمیان سکیورٹی کے حوالے سے جاری مذاکرات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستان نے چین کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر زور دیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اپنے داخلی معاملات میں خودمختاری کو مقدم رکھتا ہے۔



