پاکستان کے اندھے قوانین — عوام کے لیے مہنگائی، اشرافیہ کے لیے مراعات!

وزارتِ قانون کی جانب سے پیش کردہ تفصیلات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ پاکستان میں طاقتور طبقے کے لیے قوانین اور مراعات کس قدر فراخ دلانہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اگر کسی جج کا انتقال ہو جائے تو اس کی بیوہ کو زندگی بھر وہ مراعات ملتی رہتی ہیں جن کا خواب بھی ایک عام شہری نہیں دیکھ سکتا۔

ان مراعات میں ایک مستقل ڈرائیور، اردلی، 2 ہزار یونٹ بجلی، مفت پانی، اور ہر ماہ 300 لیٹر پیٹرول شامل ہے۔ یہ سب کچھ اُس ملک میں ہو رہا ہے جہاں عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہیں، بجلی کے بل لوگوں کو خودکشی پر مجبور کر رہے ہیں، اور پٹرول کی قیمتیں ہر ماہ آسمان کو چھو رہی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ سہولیات ٹیکس دینے والے عوام کے پیسوں سے فراہم کی جاتی ہیں، جن میں اکثریت وہ لوگ ہیں جنہیں خود دن رات محنت کر کے بھی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

یہ سوال یہاں پیدا ہوتا ہے کہ کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ مراعات کا دائرہ صرف ایک طبقے تک محدود نہ رہے؟ جب ایک استاد، ڈاکٹر، نرس یا پولیس اہلکار اپنی پوری زندگی خدمت کے بعد ریٹائر ہوتا ہے تو اسے نہ یہ شاہانہ سہولتیں ملتی ہیں، نہ اتنی بڑی پنشن، اور نہ ہی زندگی بھر کے لیے پٹرول اور بجلی کا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے۔

یہ صورتحال صرف معاشی ناانصافی نہیں بلکہ ایک سماجی تقسیم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف وہ عوام ہیں جو ٹیکس دیتے ہیں، لوڈشیڈنگ برداشت کرتے ہیں، اور بجلی و پانی کے بلوں میں اضافہ سہتے ہیں؛ دوسری طرف وہ طبقہ ہے جو “ریاستی اشرافیہ” کہلاتا ہے اور تمام سہولتیں مفت میں حاصل کرتا ہے۔ اس عدم توازن نے عوام کے دلوں میں سوالات کو جنم دیا ہے: کیا یہ ریاست واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا پھر یہ چند مخصوص لوگوں کے لیے بنایا گیا ایک نجی کلب ہے؟

جب تک ایسے قوانین کا از سرِ نو جائزہ نہیں لیا جاتا، اور مراعات کا معیار سب کے لیے یکساں نہیں کیا جاتا، تب تک عوام میں بے چینی، غصہ اور مایوسی بڑھتی رہے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین کو عوام کے حق میں “بینائی” دی جائے، تاکہ یہ اندھے پن کا شکار نہ رہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں