کراچی میں بارش کے باعث جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں امتحانات ملتوی، ورک فرام ہوم کا اعلان
“کراچی میں بارش ہو یا تعلیم، دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے – کیا یہی ہے سندھ حکومت کی کارکردگی؟”
“پاکستان کا سب سے بڑا شہر، سب سے کمزور تعلیمی نظام — کراچی میں بارش ہوئی نہیں، تعلیم رُک گئی!”
کراچی میں حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ شہر صرف نکاسیٔ آب یا ٹریفک مینجمنٹ ہی نہیں، بلکہ تعلیمی پائیداری کے میدان میں بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ پیر، 9 ستمبر کو کراچی کی معروف جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی (JSMU) نے موسلا دھار بارش کے باعث آج ہونے والے تمام امتحانات ملتوی کر دیے ہیں اور عملے کے لیے “ورک فرام ہوم” پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
🏥 یونیورسٹی کا فیصلہ — تحفظ یا مجبوری؟
جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ:
“شہر میں جاری شدید بارش کے باعث طلبہ، اساتذہ اور عملے کی آمد و رفت میں مشکلات اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر آج کے تمام امتحانات ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملہ گھر سے کام کرے گا۔”
یونیورسٹی نے مزید کہا کہ امتحانات کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کیمپس کا رخ نہ کریں اور آن لائن چینلز پر اپ ڈیٹس کا انتظار کریں۔
🌧️ بارش اور کراچی — ہمیشہ ایک ہی کہانی
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ بارش کی وجہ سے کراچی میں تعلیمی نظام متاثر ہوا ہو۔ ہر سال مون سون کی آمد کے ساتھ ہی شہر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے:
سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں
ٹریفک کا نظام درہم برہم
بجلی کی بندش
پبلک ٹرانسپورٹ غائب
اور تعلیمی ادارے بند
یہی وہ وجوہات ہیں جن کے باعث طلبہ کو نہ صرف تعلیم کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ ان کے کیریئر، شیڈول، اور ذہنی سکون پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔
📉 کراچی — تعلیم کے نقصان میں پاکستان کا “واحد” بڑا شہر؟
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ کراچی پاکستان کا واحد بڑا شہر ہے جہاں بارش کو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔
لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حتیٰ کہ ملتان جیسے شہروں میں بھی موسلا دھار بارش کے باوجود تعلیمی ادارے بند نہیں کیے جاتے۔
وہیں کراچی میں ہلکی بارش بھی تعلیمی اداروں کی تعطیلات، امتحانات کی منسوخی اور ورک فرام ہوم پالیسی کا باعث بن جاتی ہے۔
🚨 سوال یہ ہے:
“کیا صرف کراچی کا انفرااسٹرکچر اتنا کمزور ہے؟ یا تعلیمی ادارے اتنے غیر محفوظ؟”
🎓 طلبہ کا ردعمل — ہم کب تک قربانی دیں گے؟
طلبہ کا کہنا ہے کہ ہر سال بارشوں کے باعث:
ان کے امتحانات کا شیڈول متاثر ہوتا ہے
عملی تربیت (clinical practice) کا وقت ضائع ہوتا ہے
نصاب مکمل کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں
اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے
ایک میڈیکل طالبہ نے کہا:
“بارش تو چند دن کی ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات ہمارے پورے سیشن پر پڑتے ہیں۔ امتحان ملتوی ہو جائے تو سارا ریویژن ضائع، اور نئی تاریخ کا کوئی پتہ نہیں ہوتا!”
📊 تعلیمی نقصان — خاموش تباہی
کراچی میں بارشوں کے باعث ہونے والا تعلیمی نقصان کسی نیوز ہیڈلائن میں تو نہیں آتا، مگر یہ نقصان:
ہزاروں طلبہ کے سیشن لیٹ ہونے کی وجہ بنتا ہے
یونیورسٹیوں کے نصاب کی تکمیل میں رکاوٹ
فائنل ایئر کے طلبہ کے لیے پریکٹیکل امتحانات کا دباؤ
اور مجموعی طور پر تعلیمی معیار کی کمی کا سبب بن رہا ہے
یہ سب ایک ایسے شہر میں ہو رہا ہے جو ملک کا معاشی، تعلیمی اور سائنسی حب کہلاتا ہے۔
🛑 حل کیا ہے؟ وقتی فیصلے یا مستقل پالیسی؟
بارش کے دنوں میں تعلیم کے تحفظ کے لیے اب عارضی اعلانات کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
✅ جامعات اور کالجز میں ریموٹ لرننگ انفراسٹرکچر کو فعال کیا جائے
✅ امتحانات کے لیے متبادل ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بنائے جائیں
✅ نقل و حمل کے مسائل کے باوجود تعلیمی نظام کو رواں رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے
✅ حکومت، HEC اور تعلیمی ادارے مل کر بارش-موافقت تعلیمی پالیسی تشکیل دیں
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کراچی میں بارش کو تعلیم کی دشمن نہیں بننا چاہیے؟




