“کیا ایک سابق وزیرِاعظم کو ایسے قید رکھا جا سکتا ہے، جیسے وہ مجرم نہیں، موت کا انتظار کر رہا ہو؟”

“ڈیتھ سیل میں قید عمران خان: سیاسی انتقام یا نظامِ انصاف کی ناکامی؟”


قاسم خان کا چونکا دینے والا انٹرویو

ستمبر 2025 کے دوسرے ہفتے میں، سابق وزیرِاعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے برطانوی اخبار The Independent کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔
اس انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے والد اڈیالہ جیل میں ایسے حالات میں قید ہیں جیسے وہ کوئی سزائے موت کا مجرم ہوں۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اور انسانی حقوق کی وکیل مریم ریاض وٹو، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق تک پہنچ چکے ہیں، تاکہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھایا جا سکے۔


عمران خان کے خلاف کیسز: انصاف یا سیاسی انتقام؟

عمران خان پر درجنوں مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے اکثر کو ان کے حمایتی سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے کیسز قرار دیتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

  • توشہ خانہ کیس

  • سائفر کیس

  • 9 مئی کے واقعات

  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات

تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی بنیاد زیادہ تر سیاسی فیصلوں اور اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدگی پر مبنی ہے، نہ کہ ٹھوس شواہد پر۔


قیدِ تنہائی اور ‘ڈیتھ سیل’ کی حقیقت

قاسم خان کے مطابق عمران خان کو:

  • الگ تھلگ سیل میں رکھا گیا ہے

  • کسی قسم کی جسمانی یا ذہنی سرگرمی کی اجازت نہیں

  • نہ اخبار، نہ کتب، نہ کسی سے ملاقات

  • کوئی میڈیکل سہولت یا معیاری خوراک نہیں دی جا رہی

ان حالات کو عالمی سطح پر “Cruel, Inhuman or Degrading Treatment” یعنی ظالمانہ، غیر انسانی اور تحقیر آمیز سلوک تصور کیا جاتا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے Human Rights Charter اور UN Mandela Rules کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


اقوامِ متحدہ سے رجوع: ایک تاریخی قدم؟

پاکستانی سیاست میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی نے اقوامِ متحدہ سے رجوع کیا ہو، لیکن یہ ضرور پہلا موقع ہے کہ کسی سابق وزیراعظم کے بیٹے نے باقاعدہ عالمی ادارے سے مدد مانگی ہو۔

مطالبات درج ذیل ہیں:

  1. عالمی مبصرین کو جیل کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے

  2. عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق بحال کیے جائیں

  3. قیدِ تنہائی کا خاتمہ ہو

  4. پاکستان میں انسانی حقوق کی نگرانی سخت کی جائے

یہ مطالبات ایک سیاسی قیدی کے لیے نہیں، بلکہ ایک جمہوری لیڈر کے لیے ہیں، جنہوں نے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا۔


عمران خان کی شخصیت: ایک خطرہ یا ایک رہنما؟

عمران خان نہ صرف ایک سابق وزیرِاعظم ہیں، بلکہ ایک عوامی تحریک کے بانی، عالمی شہرت یافتہ کرکٹر، اور ملک گیر سطح پر مقبول لیڈر بھی ہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک یہ تاثر دیتا ہے کہ:

طاقتور سیاسی شخصیات اگر اس طرح بےبس ہو سکتی ہیں، تو عام شہری کا کیا حال ہوگا؟

یہ صرف عمران خان کی شخصیت کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پاکستانی عدالتی، جمہوری اور انتظامی نظام کا امتحان بھی ہے۔


عالمی تنقید اور میڈیا کی توجہ

اس خبر کے بعد، کئی بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے پاکستان میں جاری سیاسی صورت حال پر سخت تنقید کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور فریڈم ہاؤس جیسے ادارے پہلے ہی پاکستان میں:

  • عدالتی نظام کی آزادی

  • میڈیا پر سنسرشپ

  • سیاسی آزادیوں پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

اب عمران خان کے قید کی حالت نے ان خدشات کو اور بھی شدت سے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔


قانونی اصول اور انسانی وقار

بین الاقوامی قوانین کے مطابق:

  • ہر قیدی کو مناسب خوراک، صحت، ذہنی سکون اور ملاقات کی سہولیات دینا لازمی ہے

  • سیاسی قیدیوں کو مخصوص تحفظ حاصل ہوتا ہے

  • قیدِ تنہائی اگر لمبے عرصے تک ہو، تو یہ تشدد کے زمرے میں آتی ہے

لہٰذا، عمران خان کے ساتھ کیا جانے والا سلوک نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی جرم کے زمرے میں بھی آتا ہے — اگر یہ ثابت ہو جائے۔


پاکستان کے لیے نقصان دہ اثرات

ایسی صورتحال کے اثرات صرف عمران خان یا ان کے حامیوں تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے:

  • پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوتی ہے

  • غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثر پڑتا ہے

  • نوجوانوں میں مایوسی اور بےچینی بڑھتی ہے

  • جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور ہوتا ہے

آخر میں سوال یہ اٹھتا ہے:

  • کیا عمران خان کو واقعی انصاف ملے گا؟

  • کیا عالمی برادری اس ظلم کے خلاف مؤثر قدم اٹھائے گی؟

  • کیا پاکستان کا نظام عدل اور سیاسی قیادت اس وقت صحیح سمت میں ہے؟

  • اور سب سے اہم: کیا ہم تاریخ سے کچھ سیکھیں گے، یا اسے دہراتے رہیں گے؟


مصنف کا نوٹ

یہ تحریر کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ اس اصول کے دفاع میں ہے کہ:

“قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے — خواہ وہ عام شہری ہو یا سابق وزیرِاعظم۔”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں