ہم بچوں کو انسان نہیں، مشین بنانا سکھا رہے ہیں — اور یہی ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔

“تعلیم کا اصل مقصد صرف علم دینا نہیں، بلکہ انسان بنانا ہے۔”

لیکن افسوس، ہمارا تعلیمی نظام ایسا انسان بنا رہا ہے جو صرف نمبر لے سکتا ہے، نوکری حاصل کر سکتا ہے، لیکن زندگی کو نہیں سمجھتا — نہ خود کو، نہ دوسروں کو۔

🔹 کیا ہم تعلیم دے رہے ہیں — یا صرف تربیت؟
ہمارے اسکول، کالجز اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی، تعلیم کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ بچہ اچھے گریڈز لے، ڈاکٹر یا انجینئر بنے، اور پھر ایک ’کامیاب‘ زندگی گزارے۔ لیکن اس کے درمیان:

ضمیر کی آواز دب جاتی ہے

سچ بولنے کا حوصلہ چھن جاتا ہے

ہمدردی اور اخلاقیات صرف نصابی کہانیوں تک محدود رہ جاتی ہیں

خود اعتمادی نمبروں اور دوسروں کی منظوری کے گرد گھومتی ہے

ہم بچوں کو صرف باہر کی دنیا جیتنے کے گر سکھاتے ہیں، لیکن اندر کی دنیا سمجھنے کا کوئی سبق نہیں دیتے۔

🔹 فرمانبردار نسل، آزاد سوچ سے محروم
جب بچہ کوئی نیا سوال پوچھتا ہے، تو اکثر اسے یہ سننے کو ملتا ہے:

“زیادہ سوال نہ کرو!”
“یہ تمہارے سمجھنے کی بات نہیں!”
“بس وہی کرو جو کہا گیا ہے!”

یہ جملے صرف ذہن بند کرتے ہیں۔ بچے کے اندر موجود تجسس، تخلیقی صلاحیت، اور مختلف سوچنے کی صلاحیت — سب ختم ہو جاتی ہے۔

اس طرح ہم سوچنے والے انسان نہیں بلکہ فرمانبردار روبوٹ پیدا کر رہے ہیں۔
جو سسٹم کی ہدایات پر چلتے ہیں، لیکن زندگی کو خود سے نہیں جیتے۔

🔹 خود اعتمادی نمبر سے نہیں، نظریے سے آتی ہے
ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ تمہاری قدر صرف تمہارے نمبر، گریڈ یا عہدے سے ہے۔
لیکن جب وہ ہار جاتے ہیں، تو انھیں لگتا ہے کہ وہ “ناکام” ہیں۔

ہم نے کبھی نہیں سکھایا:

ہارنا بھی سیکھو

خود سے پیار کرنا سیکھو

ہر شخص کا راستہ الگ ہوتا ہے

ہم نے خودی کو پہچاننے، اپنی آواز پر اعتماد کرنے، اور معاشرتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ڈیولپ ہی نہیں کی۔

🔹 سچ، ہمدردی اور خود سوچنے کی طاقت
کیا آپ نے غور کیا ہے، ہم بچوں کو سچ بولنے کی تلقین تو کرتے ہیں، لیکن جب وہ گھر یا اسکول میں سچ بولتے ہیں، تو اکثر سزا یا شرمندگی ملتی ہے۔

وہ سیکھتے ہیں کہ سچ بولنے سے بچنا بہتر ہے

وہ دیکھتے ہیں کہ بڑوں کی منافقت عام ہے

وہ سیکھتے ہیں کہ جو “روایتی سوچ” سے ہٹ کر سوچے، وہ باغی کہلاتا ہے

نتیجہ؟
ایک ایسی نسل جو محفوظ جھوٹ کو مشکل سچ پر ترجیح دیتی ہے۔
جو احساس اور ہمدردی کے بجائے مقابلے اور کامیابی کو اہمیت دیتی ہے۔

🔹 حل کیا ہے؟
نصاب میں انسانیت، کردار سازی اور جذباتی ذہانت شامل کریں
جیسے empathy، emotional regulation، self-awareness۔

بچوں کو سوال کرنے کی آزادی دیں
تاکہ وہ اپنے نظریے بنا سکیں، اندھی تقلید نہ کریں۔

ٹیچرز اور والدین کی تربیت کریں
تاکہ وہ بچوں کو دبائیں نہیں، ان کو سنیں اور سمجھیں۔

ناکامی کو جرم نہیں، تجربہ سمجھائیں
تاکہ بچے ہر امتحان میں نمبر سے زیادہ سبق سیکھیں۔

مکالمہ، مباحثہ، کہانی اور تھیٹر جیسے ذرائع استعمال کریں
تاکہ بچوں کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں ابھر سکیں۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری نسل آگے بڑھے، معاشرہ بہتر ہو، اور انسانیت زندہ رہے،
تو ہمیں تعلیم کے مطلب پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔
ہمیں بچوں کو کامیاب انسان بنانے سے پہلے اچھا انسان بنانا سکھانا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں