“جنگ بندی پر امریکی اعلان، بھارتی میڈیا کا سیخ پا ہونا – سچ برداشت نہیں؟”
### 💡 “جنگ بندی پر امریکی اعلان، بھارتی میڈیا کا سیخ پا ہونا – سچ برداشت نہیں؟”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے اعلان نے بھارتی میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارتی اینکر ارنب گوسوامی، جو اپنے متنازع بیانات اور جارحانہ صحافت کے لیے مشہور ہیں، نے اس اعلان پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔
### 🌐 **ٹرمپ کا اعلان:**
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، دونوں ممالک نے تنازعے کو مزید بڑھانے کے بجائے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔
### 🔥 **بھارتی میڈیا میں آگ بھڑک اٹھی:**
اس اعلان کے فوراً بعد بھارتی میڈیا، خاص طور پر معروف اینکر ارنب گوسوامی، نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارنب نے اپنی نشریات میں کہا، “جب بھارت نے امریکی ثالثی پر رضامندی ظاہر ہی نہیں کی، تو ٹرمپ کیسے جنگ بندی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟”
### ⚡ **ارنب گوسوامی کا غصہ:**
* ارنب نے امریکی صدر پر الزام لگایا کہ انہیں زمینی حقائق کا علم نہیں۔
* کہا کہ ٹرمپ کچھ دن پہلے تک تنازع سے لاتعلقی ظاہر کر رہے تھے، پھر اچانک ثالثی کا کردار کیسے ادا کر لیا؟
* ارنب نے مزید کہا کہ ان کا چینل امریکی صدر کے بیان کے بجائے بھارتی حکومت کے بیان کو نشر کرے گا۔
### 💬 **اصل حقیقت کیا ہے؟**
بھارت کے سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی ثالثی کو مسترد کرتا ہے، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے۔ تاہم، پاکستان کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ امریکی صدر نے براہ راست جنگ بندی کا اعلان کیا، جو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کی حمایت کے مترادف ہے۔
امریکی ثالثی پر بھارتی میڈیا کا سیخ پا ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت سفارتی دباؤ میں ہے، اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی کامیابی نے اس کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔



