آئی ایم ایف کا پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں پر اظہارِ تشویش: سیلاب کے بحران پر گہری نظر

“سیلاب کا شدید بحران: کیا پاکستان کی مالیاتی پالیسیاں آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت جائزے میں کھڑی ثابت ہوں گی؟”


 تاریخ اور موجودہ صورتحال

  • ستمبر 2025 میں پاکستان مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ہوا۔ پنجاب اور سندھ سمیت متعدد علاقوں میں فصلیں تباہ ہوئیں، گھروں کو نقصان پہنچا، لوگوں کی روزمرہ زندگی تباہی کا شکار ہوئی، اور غذائی مہنگائی اور معیشت پر بوجھ ڈالا گیا۔

  • قومی آفات انتظامی اتھارٹی (NDMA) کے مطابق، اب تک تقریباً 972 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • فصلوں، مویشیوں، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو جو نقصان ہوا ہے، اس نے معیشت کو شدید جھٹکے دیے ہیں۔


 آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility – EFF): پسِ منظر اور وعدے

  • پاکستان نے 2024 میں ایک طویل المدتی EFF معاہدہ طے کیا ہے جس کی مدت تقریباً 37 ماہ ہے، جس کا مقصد معاشی استحکام بحال کرنا، قرضوں کا بوجھ کم کرنا، مالیاتی خسارہ کم کرنا، اور خارجی ذخائر مستحکم کرنا ہے۔

  • اسی معاہدے کے تحت Resilience and Sustainability Facility (RSF) کا بھی حصہ منظور کیا گیا ہے، تاکہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھایا جائے۔

  • EFF کی اولین جائزہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے چند اہم اصلاحات نافذ کی ہیں، جیسا کہ محصول جمع کرنے کی کوششوں میں اضافہ، ریاستی اداروں (SOEs) کی اصلاح، توانائی کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوششیں، اور موسمیاتی خطرے سے نمٹنے کے منصوبے شامل ہیں۔


 جائزہ مشن کا مقصد اور اہم نکات

آئی ایم ایف کا تازہ ترین جائزہ مشن درج ذیل پہلوؤں کو دیکھے گا:

  1. FY26 بجٹ کی لچک (Budget Agility)
    یہ دیکھا جائے گا کہ آیا وفاقی اور صوبائی بجٹ میں کتنی لچک موجود ہے تاکہ سیلاب جیسی ہنگامی صورتحال میں تیزی سے اخراجات بڑھائے جائیں، ترجیحات تبدیل کی جائیں، اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فنڈز ری ڈائریکٹ کیے جائیں۔ سرکاری اخراجات اور مالیاتی پالیسیاں
    بجٹ میں مخصوص شعبوں جیسے زراعت، بنیادی انفراسٹرکچر، امدادِ انسانی، اور غذائی تحفظ کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی ہے؟ کیا موجودہ پالیسیاں متاثرین تک فوری اور مؤثر امداد پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟

  2. ایمرجنسی اقدامات (Emergency Provisions)
    حکومت کی طرف سے لائے گئے ہنگامی اقدامات کیا ہیں؟ مثلاً نقد امداد، عارضی رہائش، بیماریوں کا کنٹرول، مویشیوں اور فصلوں کی نقصان زدہ صورتحال کا ازالہ، اور غذائی قلت کی روک تھام کے انتظامات۔

  3. معاشی نمو اور ملکی معیشت پر اثرات
    سیلاب کی وجہ سے زرعی شعبہ متاثر ہونے سے GDP نمو میں کمی کا امکان ہے۔ ایک تخمینہ یہ بھی ہے کہ زرعی نقصان کی وجہ سے نمو میں تقریباً 0.2 فیصد کمی ہوسکتی ہے، تاہم تعمیراتی سرگرمیاں کچھ حد تک خسارے کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

  4. مہنگائی، خوراک، روزگار اور معاشرتی نقصانات
    فصلوں اور مویشیوں کی تباہی، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی وجہ سے خوراک کی فراہمی متاثر ہوئی جس سے مہنگائی میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ توسیعی اخراجات کے بوجھ سے معاشرتی خستگی، بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا امکان ہے۔


 ملک کی معیشت پر سیلاب کا بوجھ

  • زرعی شعبہ کا بڑا نقصان، جس میں فصلیں تباہ ہونا اور مویشی تلف ہونا شامل ہے۔ یہ براہِ راست چھوٹے کسانوں اور دیہی معیشت پر انتہائی منفی اثر ڈالے گا۔ Dawn+1

  • مہنگائی کا دباؤ: خوراک کی قلت اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ۔ تقریباً 5 سے 7 فیصد تک مہنگائی کا ہدف ہوسکتا ہے، لیکن سیلاب کے اثرات سے یہ ہدف چھوٹ سکتا ہے۔ Dawn+2The News International+2

  • GDP نمو کا تخمینہ: پہلے سے طے شدہ نمو کی شرح 4.2 فیصد سے کم ہونے کا امکان ہے، مخصوص طور پر زراعت کی خرابی کی وجہ سے۔ The News International

  • قرضوں اور مالیاتی خسارے کا بڑھتا ہوا بوجھ: متاثرین کی بحالی، انفراسٹرکچر کی مرمت، اور امدادی پروگراموں کے لیے اضافی فنڈز درکار ہوں گے، جس سے مالیاتی خسارہ بڑھ سکتا ہے۔ The News International+1


 ممکنہ ردِ عمل اور حکومتی اقدامات

  • حکومت کو ممکن ہے کہ مکمل بجٹ دوبارہ جانچا جائے، تاکہ اہم شعبوں کے لیے فنڈز کو ترجیحی بنیادوں پر منتقل کیا جائے۔

  • علاقائی اور صوبائی حکومتوں کے کردار کو بڑھایا جائے گا، تاکہ امداد اور بحالی کے مقامی سطح پر بہتر انتظامات ہوں۔ The News International+1

  • توانائی، ٹرانسپورٹ اور زرعی مقاصد کے لیے انفراسٹرکچر کی مرمت کی ترجیح ہوگی، خاص طور پر وہ علاقے جن کی معیشت بہت زیادہ زرعی انحصار پر ہے۔

  • جن علاقوں کا انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے، وہاں رہائشی سہولیات، صحت عامہ کی خدمات اور صفائی کے نظام کو جلد بحال کرنا ہوگا۔


📅 جائزہ مشن کی ٹائم لائن اور مالیاتی التزامات

  • IMF جائزہ مشن کی آمد کی تاریخ طے ہے — تقریباً 25 ستمبر 2025 سے پاکستان میں گفتگو متوقع ہے۔ The News International+1

  • اس جائزے کے نتیجے پر نئے قرضے یا فنڈنگ کی رہائی کا انحصار ہوگا، خصوصاً وہ قسطیں جو EFF پروگرام کے تحت زیرِ غور ہیں۔ The News International+2IMF+2


چیلنجز اور رکاوٹیں

  • ڈیٹا کی کمی: متاثرہ علاقوں کا مکمل تخمینہ اور نقصانات کی تفصیلات جلد اور درست نہ ہونا امدادی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

  • مالیاتی توازن: حکومت کے پاس پہلے سے روزمرہ اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ ہیں، جنہیں سیلاب کے بعد میں مزید بوجھ کا سامنا ہے۔

  • مہنگائی کا تسلسل: اگر خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مہنگائی کا دائرہ وسیع ہو جائے گا، جس سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوجائے گی۔

  • تنظیمی صلاحیت: امداد، بحالی اور انفراسٹرکچر مرمت کے کاموں کے نفاذ میں صوبائی اور وفاقی سطح پر تنظیمی صلاحیتیں اور شفافیت ضروری ہیں۔


 ممکنہ نتائج

  • اگر پاکستان کی مالیاتی پالیسیاں، بجٹ کی ترتیب، اور ایمرجنسی منصوبہ بندی مؤثر اور شفاف ثابت ہوئیں، تو امکان ہے کہ IMF کی قسطوں کی رہائی ہو جائے، جو پاکستان کے لیے اشد ضرورت ہے۔

  • معیشت کی نمو کی پیش گوئیاں مستحکم کی جا سکتی ہیں، مہنگائی میں کمی کی سمت اقدامات ہو سکتے ہیں، اور غذائی تحفظ کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

  • دوسری طرف، اگر پالیسیاں غیر مؤثر ثابت ہوئیں، یا فنڈز کی تقسیم میں شفافیت نہ ہو، تو قرضے مزید بڑھ سکتے ہیں، عوامی اعتماد کم ہو سکتا ہے، اور معیشتی دباؤ بڑھ جائے گا۔

پاکستان اس مرحلے پر ایک سنگین امتحان کا سامنا کر رہا ہے۔ سیلاب، موسمیاتی تبدیلی، مالیاتی بوجھ، اور عوامی توقعات — یہ سب مل کر ایک پیچیدہ چیلنج ہیں۔

یہ مشن صرف مالیاتی عدل کی بابت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہتر معاشرتی، ماحولیاتی اور سیاسی مستقبل کی بنیاد رکھنے کا موقع ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں