“اسرائیلی حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قطری عوام کے ساتھ ہیں۔”
اسرائیلی حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قطری عوام کے ساتھ ہیں – وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف اور مسلم دنیا کا ردعمل
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسرائیل-فلسطین تنازعے نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ ہر بار جب غزہ یا مغربی کنارے پر اسرائیلی بمباری ہوتی ہے، عالمی برادری کی طرف سے مذمتی بیانات آتے ہیں، تاہم مسلم دنیا میں اس پر ایک خاص ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا:
“اسرائیلی حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، قطری عوام کے ساتھ ہیں”
یہ بیان نہ صرف ایک سفارتی اظہارِ یکجہتی ہے بلکہ مسلم امہ کے جذبات کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس بیان کی اہمیت، اس کے پس منظر، مسلم ممالک کے مؤقف اور بین الاقوامی ردعمل کا جائزہ لیں گے۔
اسرائیلی حملے کا پس منظر
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی گئی حالیہ بمباری میں درجنوں نہتے فلسطینی شہید ہوئے جن میں عورتیں، بچے اور معمر افراد شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ان حملوں کا جواز “دفاعی کارروائی” بتایا گیا، لیکن شواہد اور زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔
ان حملوں نے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پوری مسلم دنیا کو غم و غصے میں مبتلا کردیا ہے۔ قطر، جو ہمیشہ فلسطینی کاز کا مضبوط حامی رہا ہے، اس بار بھی میدان میں آیا اور اسرائیل کی جارحیت کی کھل کر مذمت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف
پاکستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا مذکورہ بیان اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا:
“ہم اسرائیل کے اس وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملے انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ پاکستان قطری عوام اور فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔”
اس بیان کی اہمیت:
-
سفارتی یکجہتی: قطر کی حمایت کر کے پاکستان نے مسلم ممالک کے مابین اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔
-
انسانی حقوق کی حمایت: اسرائیلی حملوں کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دے کر پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کرے۔
-
مسلم امہ کی آواز: یہ بیان پاکستان کو مسلم دنیا کے قائدانہ کردار کی طرف اشارہ دیتا ہے، جسے مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔
قطر کی پوزیشن اور کردار
قطر ایک چھوٹا مگر بااثر ملک ہے، جس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی مدد کی ہے۔ چاہے وہ انسانی بنیادوں پر امداد ہو، سیاسی حمایت ہو یا بین الاقوامی فورمز پر آواز اٹھانا — قطر ہر سطح پر فعال رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے بعد قطر نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کی جانب سے قطر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا دراصل ان تمام کوششوں کو سراہنے کے مترادف ہے جو قطر فلسطینیوں کے حق میں کرتا آیا ہے۔
مسلم دنیا کا اجتماعی ردعمل
مسلم ممالک میں عمومی طور پر اسرائیلی جارحیت پر سخت ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے، مگر عملی اقدامات کی کمی ہمیشہ سے تنقید کا باعث رہی ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد:
-
ترکی نے شدید مذمت کی اور اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
-
ایران نے اسرائیل کو “غاصب ریاست” قرار دے کر جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
-
سعودی عرب نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا مگر محتاط سفارتی انداز اپنایا۔
-
ملائیشیا، انڈونیشیا، الجزائر، مراکش جیسے ممالک نے بھی بیان جاری کیے۔
تاہم ان بیانات سے آگے بڑھ کر ایک متحد مسلم مؤقف یا مشترکہ لائحہ عمل کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی خاموشی
اقوام متحدہ اور یورپی یونین جیسے ادارے روایتی “تشویش” کے بیانات جاری کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اسرائیل پر کوئی دباؤ نظر نہیں آتا۔ امریکا کی کھلی حمایت نے اسرائیل کو مزید دلیر بنا دیا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان جیسے ممالک کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ نہ صرف آواز بلند کریں بلکہ مسلم دنیا کو اکٹھا کر کے مؤثر سفارتکاری کریں۔
پاکستان کا ممکنہ کردار
پاکستان کے پاس کئی مواقع ہیں:
-
او آئی سی کو فعال بنانا: پاکستان او آئی سی اجلاس کی میزبانی کر کے ایک مشترکہ مؤقف طے کروا سکتا ہے۔
-
اقوام متحدہ میں مؤثر قرارداد پیش کرنا: پاکستان انسانی حقوق کی بنیاد پر ایک قرارداد لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
-
عوامی سفارتکاری: میڈیا، سوشل میڈیا اور عوامی مظاہروں کے ذریعے فلسطینی کاز کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا بیان صرف ایک رسمی مذمت نہیں، بلکہ ایک جذباتی اور اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک مسلم ممالک متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف ایک واضح اور سخت مؤقف نہیں اپناتے، مظلوم فلسطینی عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آئے گی۔
پاکستان، قطر، ترکی، ایران اور دیگر مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ اب بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ یہی وقت ہے کہ مسلم دنیا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر مظلوموں کی آواز بنے۔



