“اسرائیل کی خودمختاری اتنی ہے جتنی پتلی تندور کی روٹی — جب تک واشنگٹن نہ چاہے، تلتی ہی نہیں!”

 قطر میں حملہ: اسرائیلی ’خودمختاری‘ یا امریکی ’پرچم برداری‘؟

قطر میں حالیہ اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ہر چال کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں امریکی پرچھائیں ہوتی ہے۔ چاہے بات فلسطین پر بمباری کی ہو، لبنان میں کارروائی کی، یا اب قطر جیسے نسبتاً غیر متنازع ملک میں حملے کی — ایک بات طے ہے:

“اسرائیل وہی کرتا ہے جو واشنگٹن چاہتا ہے، اور جو نہیں چاہتا، وہ صرف خبر بن جاتی ہے۔”

 حملہ قطر پر، کنٹرول ریموٹ سے

جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں “حماس” کے مبینہ ارکان کو نشانہ بنایا تو دنیا حیران رہ گئی کہ یہ حملہ کس جُرأت سے کیا گیا — کیونکہ قطر نہ صرف امریکہ کا اتحادی ہے بلکہ مغربی دنیا کا پسندیدہ سرمایہ کاری مرکز بھی۔

اب سوال اٹھتا ہے:
کیا اسرائیل اتنا بہادر ہے کہ وہ امریکہ کو بغیر بتائے ایک خلیجی ملک پر حملہ کرے؟

امریکہ کا لاعلم ہونا: سچ یا ڈرامہ؟

پہلی خبریں آئیں کہ “امریکہ کو اطلاع نہیں دی گئی”. فوراً ہی امریکہ کا چہرہ معصومیت سے بھر گیا جیسے کوئی بچہ ہاتھ میں توڑ پھوڑ کا سامان لیے کہہ رہا ہو: “مجھے کیا پتا؟ میں تو سو رہا تھا!”

لیکن جیسے ہی رپورٹس گہری ہوئیں تو پتا چلا:

  • امریکہ کو حملے سے پہلے اطلاع دی گئی تھی۔

  • امریکہ نے قطر کو آگاہ بھی کیا۔

  • حملہ عین اسی وقت ہوا جب مذاکرات جاری تھے۔

تو پھر وہ پرانی کہاوت یاد آتی ہے:

“جب آقا آنکھ مارے، غلام تب ہی چال چلتا ہے!”

 اقوام متحدہ کی ’مذمت‘ — صرف رسمی کارروائی

یو این کے سیکریٹری جنرل نے حملے کی مذمت کی۔ مگر جیسے ہی مذمت مکمل ہوئی، امریکہ نے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا — جیسے استاد کلاس میں ڈانٹ رہا ہو اور نالائق بچہ ہنستے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہو۔

اقوام متحدہ کی “خودمختاری” اور “مذمت” اتنی ہی مؤثر ہے جتنی کمرے میں مچھر مارنے کے بعد خوشبو چھڑکنا — مسئلہ حل نہیں ہوتا، صرف “ماحول” بہتر لگنے لگتا ہے۔

 اصل حقیقت کیا ہے؟

  • اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو بین الاقوامی قوانین کو اپنے “سیکیورٹی رائٹس” کا نام دے کر روندتا ہے۔

  • اور امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جو کہتا ہے: “ہم اسرائیل کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے” — چاہے وہ قدم قطر کے سینے پر کیوں نہ ہو!

 اسرائیل-امریکہ: خودمختاری یا کٹھ پتلی کا کھیل؟

اسرائیل کا امریکہ سے رشتہ ایسا ہے جیسے موبائل اور نیٹ ورک کا ہوتا ہے:
سم جتنی بھی اسمارٹ ہو، سگنل کے بغیر بس لوڈنگ پر ہی رہتی ہے۔

اسرائیل کی ہر عسکری، مالی، اور سفارتی جُرأت امریکی حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسرائیل حملہ کرتا ہے، دنیا کو پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ “اس کے پیچھے امریکہ کا سِر کتنے زاویے پر جھکا ہے؟”

اسرائیل اگر امریکہ کی پشت پناہی کے بغیر کچھ کر سکتا، تو آج فلسطین آزاد ہوتا، اور اقوام متحدہ واقعی متحد ہوتی۔

قطر پر حالیہ حملہ صرف ایک میزائل حملہ نہیں تھا — یہ دنیا کو دیا گیا ایک پیغام تھا:

“ہمارے قانون ہم خود بناتے ہیں، اور ان کی خلاف ورزی بھی خود ہی کرتے ہیں — باقی دنیا صرف مذمت کرتی رہتی ہے!”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں