اشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تناؤ بڑھتا رہا، مگر اب امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے— کیا تجارتی جنگ ختم ہونے والی ہے؟
امریکہ-بھارت تجارتی تنازع: حل کی امید یا وقتی بیان؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے دوران امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی محصولات (Trade Tariffs) پر اختلافات شدت اختیار کر گئے۔
ایسے میں امریکی صدر کی جانب سے بھارت کے لیے نامزد کردہ خصوصی ایلچی سرجیو گور (Sergio Gor) نے بیان دیا ہے کہ:
“واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تجارتی محصولات پر پیدا ہونے والا تنازع آئندہ چند ہفتوں میں حل ہو سکتا ہے۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک باہمی تجارت کو وسعت دینے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اسٹریٹیجک معاملات میں بھی مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
تجارتی تنازع کی نوعیت: کہاں سے شروع ہوا؟
◼️ ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” پالیسی:
ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکہ نے کئی ممالک پر درآمدی ڈیوٹیز میں اضافہ کیا، جن میں بھارت بھی شامل تھا۔
◼️ بھارت کا جوابی ردِعمل:
اس کے جواب میں بھارت نے بھی کئی امریکی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیے، جن میں بادام، سیب، اخروٹ، چنے اور صنعتی سامان شامل تھا۔
◼️ GSP پروگرام کی معطلی:
امریکہ نے بھارت کو دی گئی Generalized System of Preferences (GSP) کی سہولت واپس لے لی، جس کے تحت بھارت کو امریکی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل تھی۔
یہ اقدام بھارت کی معیشت اور ایکسپورٹرز کے لیے دھچکا تھا، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے۔
سرجیو گور کا بیان: امید کی کرن؟
سرجیو گور کا بیان کہ “تجارتی تنازع آئندہ چند ہفتوں میں حل ہو سکتا ہے”، ایک مصالحانہ انداز کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس بیان کی اہمیت:
-
مذاکراتی دروازے کھلے ہیں
-
سیاسی سطح پر نرمی کے اشارے
-
انتخابات سے پہلے سفارتی کامیابی کا امکان
-
عالمی سطح پر مثبت پیغام کہ امریکہ اپنی جارحانہ تجارتی پالیسی پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے
امریکہ-بھارت تعلقات: تجارتی سے زیادہ اسٹریٹیجک
تجارتی تنازع اپنی جگہ، مگر دونوں ممالک کے تعلقات صرف معاشی نہیں بلکہ سیکیورٹی، دفاع، ٹیکنالوجی، اور جغرافیائی سیاست تک پھیلے ہوئے ہیں۔
کلیدی پہلو:
-
QUAD اتحاد: چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے مقابلے میں امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا مشترکہ پلیٹ فارم
-
دفاعی معاہدے: اربوں ڈالر کے دفاعی ساز و سامان کی خریداری
-
ٹیکنالوجی اشتراک: AI، 5G، اور خلائی تحقیق میں تعاون
یہ تمام پہلو امریکہ کو بھارت کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کی طرف مائل کرتے ہیں۔
بھارت کے لیے اس تنازع کا اثر
-
برآمدات متاثر ہوئیں (خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کی)
-
GSP کی معطلی سے نقصان
-
عالمی سرمایہ کاری کے اعتماد میں کمی
مگر ممکنہ حل کے بعد:
-
ٹریڈ بونس کی بحالی
-
امریکہ میں بھارتی مصنوعات کی بہتر رسائی
-
چھوٹے کاروباروں کے لیے نئی راہیں کھلیں گی
اگر تنازع حل ہو جائے تو کیا فوائد ہوں گے؟
-
تجارتی حجم میں اضافہ
-
فری ٹریڈ معاہدوں کی راہ ہموار
-
علاقائی استحکام میں بہتری
-
چین کے اثر کو محدود کرنے کے لیے مضبوط اتحاد
آگے کی راہ: امکانات اور چیلنجز
امکانات:
-
امریکی حکومت کا بھارت کی بڑی مارکیٹ میں دلچسپی
-
بھارتی حکومت کی معاشی اصلاحات اور عالمی سرمایہ کشی
-
نئی تجارتی پالیسی پر مذاکرات کی راہیں کھلنا
چیلنجز:
-
امریکی صدارتی انتخابات کا دباؤ
-
اندرونی صنعتی لابیز کی مخالفت
-
زرعی، فارما اور ٹیک سیکٹر میں مستقل اختلافات
سرجیو گور کا بیان صرف ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک اہم موڑ کی علامت ہو سکتا ہے۔
اگر واشنگٹن اور نئی دہلی واقعی تجارتی اختلافات کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو گا بلکہ جنوبی ایشیا میں توازنِ طاقت اور عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا۔



