امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دیوارِ گریہ کا دورہ — نیتن یاہو کے ہمراہ اظہارِ یکجہتی قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی، امریکی سفارت کاری سرگرم
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دیوارِ گریہ کا دورہ — نیتن یاہو کے ہمراہ اظہارِ یکجہتی
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے میں کشیدگی، امریکی سفارت کاری سرگرم
یروشلم:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے دورۂ اسرائیل کے دوران وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ دیوارِ گریہ (Western Wall) کا دورہ کیا۔ اس دورے کو علامتی اور سفارتی دونوں لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی فضا پائی جا رہی ہے۔
سیاق و سباق: قطر پر حملہ، اور اس کے بعد بدلتی فضاء
گزشتہ ہفتے اسرائیل نے قطر کے اندر ایک “مبینہ حماس تنصیب” کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خطے کی سیاسی فضا میں زلزلہ آ گیا۔
-
قطر نے حملے کو “خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیا
-
ترکی، ایران، اور دیگر ممالک نے اسرائیل کو جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا
-
اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے تحمل اور سفارتی حل پر زور دیا
ایسے میں مارکو روبیو کا اسرائیل آنا اور دیوارِ گریہ پر جانا ایک سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے — کہ امریکہ اب بھی اسرائیل کا قریبی اتحادی ہے، چاہے خطہ کچھ بھی سوچے۔
دیوارِ گریہ کا دورہ — ایک مذہبی اور سیاسی اشارہ
دیوارِ گریہ، جو کہ قدیم یہودی ہیکل سلیمانی کی آخری باقیات میں سے ایک ہے، یہودی مذہب میں انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔
کسی بھی غیرملکی رہنما کا اس مقام پر جانا اسرائیل کے ساتھ یکجہتی اور مذہبی احترام کا اظہار تصور کیا جاتا ہے۔
مارکو روبیو کا وہاں جانا کئی حوالوں سے قابلِ غور ہے:
-
ایک طرف یہودی برادری کو اعتماد دلانا
-
دوسری طرف عالمی برادری کو پیغام دینا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے
-
تیسری طرف مذہبی جذبات کو عالمی سیاست میں متحرک کرنا
نتن یاہو سے ملاقات — خطے کی صورتِ حال پر غور
دیوار گریہ کے دورے سے قبل اور بعد، امریکی وزیر خارجہ نے نیتن یاہو سے بند کمرہ ملاقات بھی کی۔ ذرائع کے مطابق گفتگو کے نکات میں شامل تھے:
-
قطر پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال
-
ایران، حزب اللہ اور حماس کی سرگرمیاں
-
ممکنہ جنگ بندی یا سیزفائر کی شرائط
-
سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا ردعمل
-
غزہ میں انسانی امداد کی راہ داریوں پر بات چیت
مارکو روبیو نے اسرائیل کے “دفاع کے حق” کا اعادہ کیا، تاہم سفارتی ذرائع بتاتے ہیں کہ امریکہ نے “مزید وسعت اختیار کرنے والے اقدامات سے گریز” کی بھی نرمی سے ترغیب دی۔
مارکو روبیو — ایک سخت گیر مؤقف رکھنے والے وزیر خارجہ
مارکو روبیو، جو حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ بنے ہیں، ان کی شہرت ایک سخت گیر، اسرائیل نواز اور ایران مخالف پالیسی ساز کے طور پر رہی ہے۔
-
فلسطینی ریاست کے قیام پر شکوک
-
ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے مخالف
-
اسرائیل کی دفاعی کارروائیوں کے کھلے حامی
ان کے دورے سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ، خطے میں امن سے زیادہ “طاقت کے ذریعے استحکام” کے ماڈل کو ترجیح دے سکتی ہے۔
عالمی ردعمل — مسلم دنیا میں اشتعال، یورپ میں تشویش
دیوار گریہ کے دورے اور قطر پر حملے کے تناظر میں:
-
ترکی نے امریکہ کو “دوہرے معیار” کا مرتکب قرار دیا
-
ایران نے اسرائیل کو “علاقائی دہشت گرد” کہا
-
قطر نے اقوامِ متحدہ میں باضابطہ شکایت درج کروائی
-
یورپی یونین نے “تحمل اور سفارتی اقدامات” پر زور دیا
سفارتی دورہ یا سیاسی دباؤ؟
مارکو روبیو کا دیوار گریہ کا دورہ ایک علامتی قدم ضرور ہے، مگر اس کے سیاسی اور جغرافیائی مضمرات بہت گہرے ہیں۔
-
یہ دورہ اسرائیل کو مزید خوداعتمادی دیتا ہے
-
قطر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے
-
امریکی غیرجانبداری کے دعووں کو مشکوک بناتا ہے
-
خطے میں امن کی راہیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں



