“انصاف کا کھیل نہیں، مگر کھیل انصاف کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔”

آج اگر کوئی بات پوری قوم کے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، تو وہ یہ ہے کہ عمران خان کے خلاف حقیقتاً صرف ایک کیس ہے — القادر ٹرسٹ کیس۔ اسی ایک کیس میں وہ اس وقت قید ہیں۔ اگر اس کیس میں انہیں عدالت سے ضمانت یا ریلیف مل جائے، تو وہ قانونی طور پر رہا ہو سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہونے دیا جائے گا؟

علیمہ خان نے اپنے حالیہ بیان میں جو بات کہی، وہ محض ایک سیاسی نقطۂ نظر نہیں بلکہ ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک واضح اسکرپٹ کے تحت سب کچھ ہو رہا ہے۔ ایک ایسا سیاسی منظرنامہ ترتیب دیا جا رہا ہے جس میں انصاف کو پسِ پشت ڈال کر، محض ایک شخص — عمران خان — کو سیاست سے باہر رکھنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

جب القادر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی بات آتی ہے، تو فوراً توشہ خانہ کیس کو سامنے لا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ “مجرم” ہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں انصاف کا دامن چھوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد پہلے ہی متزلزل ہے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ عمران خان بے قصور ہیں یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کیا انہیں وہی قانونی حقوق اور مواقع مل رہے ہیں، جو ایک عام شہری یا دوسرے سیاستدانوں کو ملتے ہیں؟

اگر ایک شخص ایک کیس میں عدالت سے بری ہوتا ہے، تو کیا دوسرے کیس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا انصاف ہے؟ کیا کسی کو ایک کیس میں ضمانت دے کر دوسرے میں گرفتار رکھنا عدالتی نظام کا مذاق نہیں؟

علیمہ خان کی بات اس لیے اہم ہے کیونکہ وہ محض ایک بہن نہیں، بلکہ ایک عینی شاہد ہیں — ایک ایسی شخصیت جو اندر کی سیاست، ریاستی حربوں اور قانونی موشگافیوں کو قریب سے دیکھ چکی ہیں۔

یہ جو “اسکرپٹ” چل رہی ہے، وہ سب کو نظر آ رہی ہے، سوائے ان کے جو آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔ اسکرپٹ کچھ یوں ہے:

  • اگر ایک کیس میں ریلیف ہو جائے، تو دوسرا کھول دو۔

  • اگر عدالت سے ضمانت مل جائے، تو نیب کو بیچ میں ڈال دو۔

  • اگر نیب بھی ناکام ہو جائے، تو FIA لے آؤ۔

  • اور اگر سب کچھ ناکام ہو جائے، تو نئی قانون سازی کر دو۔

یہ سب کچھ آخر کس کے لیے؟ صرف ایک شخص کے سیاسی مستقبل کو روکنے کے لیے؟
یہ کون سا انصاف ہے؟ یہ کون سی جمہوریت ہے؟

اگر آج خاموشی اختیار کی گئی، تو کل یہی طریقہ کار کسی اور کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انصاف کے ساتھ کھڑی ہے یا صرف طاقت کے ساتھ۔ قانون کو سیاسی مقاصد کے لیے موم کی ناک بنانا بند ہونا چاہیے۔ عمران خان کے حامی ہوں یا مخالف — اصول سب کے لیے برابر ہونے چاہئیں۔

اگر انصاف نہیں ہوگا، تو صرف عمران خان نہیں، بلکہ پورا نظام رسوا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں