اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ: پاک بحریہ کے جوان سکھر کے کچے میں سرگرم

دریائے سندھ میں طغیانی: کچے کے علاقے شدید خطرے میں

دریائے سندھ کے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، خاص طور پر سکھر کے کچے کے علاقوں میں جہاں پانی اب بند باندھ سے اوپر آنے لگا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، جس سے اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔

کچے کے علاقے جو عموماً سیلاب کے دوران پانی کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، اس بار بھی شدید خطرے میں ہیں۔ یہ علاقے بنیادی طور پر کسانوں، مویشی پالنے والوں اور غریب طبقے کے گھرانے ہیں جو سالہا سال سے اس قدرتی آفت کا سامنا کرتے آرہے ہیں۔


ہزاروں افراد کی نقل مکانی: ایک مرتبہ پھر جان بچانے کی دوڑ

سیلابی صورتحال کے باعث ہزاروں خاندان گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ کچے کے ان رہائشی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ، جن کے پاس وسائل کی کمی ہے، اپنی قیمتی اشیاء اور مویشیوں کو ساتھ لے کر پانی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • بچے اور خواتین خاص طور پر زیادہ متاثر ہو رہے ہیں،

  • بزرگ اپنی صحت کے مسائل کے باوجود نقل مکانی پر مجبور ہیں،

  • کئی خاندانوں کو اپنی زمین اور فصلیں چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے،

  • راستے دشوار، اور گاڑیوں کی سہولت کم ہونے کی وجہ سے نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔


پاک بحریہ کا قابلِ ستائش کردار: لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت

ایسی ہنگامی صورتحال میں پاک بحریہ کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر کچے کے ان خطرناک علاقوں میں جا رہے ہیں جہاں پانی بھر چکا ہے یا بھرنے والا ہے۔ ان کا مقصد نہ صرف لوگوں کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا ہے بلکہ زندگی بچانے کے لیے دیگر امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھنا ہے۔

پاک بحریہ کی امدادی کوششیں:

  • ریسکیو کشتیوں کا استعمال: بحریہ کے جوان کشتیوں کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں جا کر متاثرہ خاندانوں کو نکال رہے ہیں۔

  • ترجیحی بنیادوں پر لوگوں کی منتقلی: خاص طور پر ضعیف اور بیماریوں میں مبتلا افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔

  • ریلیف کی فراہمی: کھانے پینے کا سامان، صاف پانی، اور طبی امداد کی فراہمی کی جاتی ہے۔

  • فیلڈ ہسپتالوں کا قیام: متاثرہ علاقوں میں عارضی طبی کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں ابتدائی طبی امداد دی جاتی ہے۔

پاک بحریہ کے جوان پانی کی بلند لہروں میں نہایت مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔


سیلابی مناظر: انسانی المیہ کی واضح عکاسی

مقامی اور قومی میڈیا نے سکھر کے کچے کے علاقوں سے بھیانک مناظر دکھائے ہیں:

  • بچے، خواتین، اور بوڑھے کاندھے سے کاندھا ملا کر پانی میں چلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں،

  • کشتیوں میں سوار خاندان ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں،

  • کئی گھروں کی چھتیں پانی میں ڈوب چکی ہیں، اور لوگ اونچے جگہوں پر پناہ لے رہے ہیں،

  • مویشی بھی پانی سے بچنے کے لیے اونچی جگہوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں،

  • انسانی آنسوؤں اور خوف کی کہانیاں ہر طرف سنائی دے رہی ہیں۔

یہ مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قدرتی آفات کے سامنے انسانیت کتنی نازک اور بے بس ہے۔


مزید بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کی رپورٹس کے مطابق اگلے چند دنوں میں سندھ، بلوچستان، اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، جس سے دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر شمالی سندھ میں طغیانی کا خطرہ برقرار ہے، جو پہلے ہی کئی شہروں اور دیہاتوں کو خطرے میں ڈال چکی ہے۔

محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور عوام کو ہنگامی اقدامات کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔


ریلیف کیمپوں کی صورتحال اور چیلنجز

صوبائی حکومت اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے متعدد ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو عارضی پناہ دی جا سکے۔

  • کیمپوں میں صاف پانی، خوراک، اور بنیادی طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں،

  • تاہم وسائل کی کمی، زیادہ تعداد اور انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کی وجہ سے کیمپوں میں مشکلات درپیش ہیں،

  • کئی لوگ کیمپوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کھلے آسمان تلے یا دوسرے عارضی ٹھکانوں پر رہنے پر مجبور ہیں،

  • حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کو اضافی امداد اور وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔


عوامی اور ادارہ جاتی اپیل: ہمدردی اور یکجہتی کی ضرورت

یہ وقت ہے کہ:

  • مخیر حضرات، این جی اوز، اور فلاحی ادارے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں،

  • خوراک، کپڑے، دوائیاں، خیمے، اور صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں،

  • میڈیا اور سوشل میڈیا پر معلومات کی درستگی کو یقینی بنائیں تاکہ افواہیں نہ پھیلیں،

  • ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کریں اور مل کر اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کریں۔


 آزمائش کی گھڑی اور امید کی کرن

سیلاب ایک قدرتی آفت ہے، مگر یہ ایک موقع بھی ہے جہاں قومیت، بھائی چارہ، اور انسانی ہمدردی کا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔
پاک بحریہ کے جوان، جنہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہزاروں زندگیاں بچائی ہیں، ہماری قوم کی حقیقی طاقت اور جذبہ خدمت کا مظہر ہیں۔

ہم سب کا فرض ہے کہ اس مشکل وقت میں مل کر متاثرین کی مدد کریں، انہیں حوصلہ دیں، اور اس قدرتی آزمائش سے نکل کر ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کا عزم کریں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں