تحریکِ انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار — جب مقصد ایک ہے تو راستے کیوں الگ الگ؟
تحریک انصاف میں دھڑے بندی: خود کو کمزور کرنے والا رویہ
عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے پاکستان کی سیاست میں ایک انوکھا مقام حاصل کیا — عوامی پذیرائی، نظریاتی کارکنان، اور تبدیلی کی لہر۔ مگر عمران خان کی قید و بند، میڈیا بلیک آؤٹ، اور سیاسی جدوجہد کے اس نازک دور میں پارٹی خود اندرونی خلفشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔
آج پی ٹی آئی کے اندر دو واضح گروپس بن چکے ہیں — جو نہ صرف ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو مسلسل ٹرول بھی کرتے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے مقصد کو نقصان پہنچا رہی ہے، بلکہ عمران خان کی قیادت اور بیانیے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
🔍 اندرونی تقسیم: کیسے اور کیوں؟
پی ٹی آئی کی اندرونی تقسیم کو اگر غور سے دیکھا جائے، تو کچھ بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں:
1. قیادت کا فقدان
عمران خان کی گرفتاری اور محدود رابطہ عوام و کارکنان سے ایک خلاء پیدا کر چکا ہے۔ اس خلا کو مؤثر قیادت سے پر نہ کیا جا سکا۔
2. ذاتی پسند و ناپسند
پارٹی کے کچھ رہنما ذاتی مفادات یا قریبی حلقوں کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے، اب ایک دوسرے کو “ایجنٹ”، “موقع پرست” اور “گھس بیٹھیے” جیسے الفاظ سے پکار رہے ہیں۔
3. سوشل میڈیا کی جنگ
پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی سوشل میڈیا ٹیم تھی — مگر اب یہی سوشل میڈیا گروپس ایک دوسرے پر گھٹیا الزامات، فیک نیوز اور ذاتی حملے کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے: جب پارٹی کا میڈیا ہی اپنی پارٹی کو تقسیم کرے، تو باہر کے مخالفین کو کیا کرنا باقی رہ جاتا ہے؟
🤝 کیا کیا جانا چاہیے؟
-
نظریاتی اتحاد پر واپسی:
اختلافِ رائے ایک جمہوری حق ہے، لیکن ذاتی حملے اور عوام کے سامنے آپسی جنگ صرف پارٹی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ -
مرکزی لیڈر شپ کا فعال کردار:
شاہ محمود قریشی، اسد عمر، علی محمد خان جیسے رہنما وہ خلا پر کر سکتے تھے جو عمران خان کی غیر موجودگی میں پیدا ہوا — لیکن اگر وہ خود الگ الگ محاذ کھولیں گے تو کارکن کس کی بات مانے گا؟ -
درمیانی پلیٹ فارم:
ایک ایسا داخلی مکالمہ یا “Conflict Resolution Committee” بنائی جائے جو پارٹی کے اندر اختلافات کو عوام میں جانے سے پہلے حل کرے۔ -
سوشل میڈیا ضابطہ اخلاق:
ایک واضح کوڈ آف کنڈکٹ ہو کہ کوئی بھی کارکن، چاہے جتنا بڑا ہو، پارٹی کے دوسرے ساتھیوں کو عوامی سطح پر ذلیل نہیں کرے گا۔
👥 کارکنان کا کردار
یاد رکھیں، کارکنان پارٹی کا اصل چہرہ ہوتے ہیں۔ اگر کارکنان خود ٹویٹر وارز میں مشغول ہوں، تو عوام کس سے امید رکھے؟
جو لوگ عمران خان کے بیانیے “قانون کی حکمرانی” اور “نظام کی تبدیلی” سے جڑے تھے، وہ اب اپنے ہی لوگوں کے خلاف مورچے لگا رہے ہیں۔
یہ وقت مفادات کی جنگ نہیں، بلکہ نظریے کی بقاء کا ہے۔
🔗 اصل مقصد کیا تھا؟
تحریک انصاف کی بنیاد ایک سادہ مگر انقلابی خیال پر رکھی گئی تھی:
“پاکستان کو ایک شفاف، کرپشن فری، اور انصاف پر مبنی ریاست بنانا۔”
جب عمران خان جیل میں ہیں، ان کی آواز دبائی جا رہی ہے، اور دنیا کی نظریں پاکستان کی سیاسی جدوجہد پر ہیں — تبھی کارکن اور رہنما آپس میں لڑتے دکھائی دیں، تو یہ تحریک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
📣 اب کیا ہونا چاہیے؟
-
آپس میں بیٹھیں، بات کریں — کیچڑ نہ اچھالیں۔
-
عمران خان کی رہائی اور سیاسی جدوجہد پر فوکس کریں۔
-
اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی نہ بنائیں۔
-
پارٹی بیانیے کو ایک پیج پر لائیں۔
-
دشمن کو خوش نہ کریں — خود کو کمزور نہ کریں۔
🧭 نتیجہ: منزل ایک ہے، قافلے الگ کیوں؟
تحریک انصاف نے وہ کام کر دکھایا جو کئی دہائیوں سے ممکن نہ ہو سکا۔ لاکھوں نوجوانوں کو سیاست سے جوڑا، عوام میں شعور پیدا کیا، اور ایک مضبوط بیانیہ دیا۔
لیکن اب، یہی تحریک اپنی ہی اندرونی کمزوریوں کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
وقت ہے کہ تمام رہنما اور کارکنان اپنی انا کو پیچھے رکھ کر عمران خان کے مشن کو آگے بڑھائیں — کیونکہ اگر قائد قید میں ہو اور قافلہ بکھرا ہوا ہو، تو انقلاب کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
✍️ آپ کی رائے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اندرونی اصلاحات کی ضرورت ہے؟
کیا موجودہ حالات میں کارکنوں کا آپس کی لڑائی نقصان دہ ہے؟
نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں — اور اس پیغام کو آگے بڑھائیں کہ:
“تنقید کرو، مگر تضحیک نہیں — اختلاف رکھو، مگر انکار مت کرو کہ ہم سب ایک ہی قافلے کے مسافر ہیں۔”



