“جب اقتدار انسان کو احساس سے محروم کر دے تو وہ عوام کا نمائندہ نہیں رہتا، محض کرسی کا رکھوالا بن جاتا ہے۔”
جب اقتدار احساس چھین لے ❞
“وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور شہداء کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے، ان کی پارٹی کے لوگ بھی شہداء کے گھر نہیں گئے” — بیرسٹر عقیل ملک
ریاستی بے حسی کی انتہا
قوم کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کے جنازے وہ مقام ہوتے ہیں جہاں پورا معاشرہ، تمام سیاسی اختلافات بھلا کر، یکجہتی اور احترام کے جذبے سے شریک ہوتا ہے۔ مگر جب ایک صوبے کا وزیراعلیٰ — جو عوامی خدمت کا حلف اٹھاتا ہے — ان لمحات میں غیر حاضر ہو، تو یہ محض ایک شخص کی غیر حاضری نہیں بلکہ ریاستی سطح پر بے حسی کی علامت بن جاتی ہے۔
وزیرِ قانون کی لب کشائی — خاموشی پر سوال
وزیرِ قانون بیرسٹر عقیل ملک نے اپنی حالیہ گفتگو میں نہایت اہم سوال اٹھایا:
“شہداء کے جنازے میں وزیراعلیٰ شریک نہیں ہوئے، ان کی جماعت کے کسی فرد نے بھی شہداء کے گھروں کا رخ نہیں کیا۔”
یہ بیان محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک قومی درد کا اظہاریہ ہے — اور خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ کسی عام سیاسی کارکن نے نہیں بلکہ قانون کے محافظ نے دیا ہے۔
عوامی نمائندگی یا سیاسی منافقت؟
عوامی نمائندے صرف ووٹ لینے کے وقت عوام کے خادم نہیں ہوتے۔ شہداء کے لواحقین کا دروازہ کھٹکھٹانا، ان کے ساتھ کھڑے ہونا، اور غم بانٹنا، ایک سیاسی رہنما کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ جب ایک پارٹی اجتماعی طور پر اس عمل سے گریز کرے، تو یہ سوال اٹھتا ہے:
“کیا سیاست صرف اقتدار کی دوڑ رہ گئی ہے؟”
قربانیوں کی توہین یا ناتجربہ کاری؟
یہ رویہ یا تو سیاسی ناپختگی کا عکاس ہے، یا پھر جان بوجھ کر اختیار کی گئی سرد مہری۔ دونوں صورتوں میں، شہداء کے اہلِ خانہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کی قربانی صرف بیانات کی حد تک اہم ہے، عمل کی دنیا میں نہیں۔
عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا
ایسے وقت میں جب قوم نازک مرحلوں سے گزر رہی ہے، اور ہر شہید ایک چراغ کی مانند ہمیں روشنی دیتا ہے، اگر حکومتی ایوان ان کی یاد میں اندھیرے میں ڈوبے رہیں، تو پھر روشنی کہاں سے آئے گی؟
خالی کرسی، بھرا ہوا سوال
علی امین گنڈاپور کی غیر حاضری صرف ایک تقریب سے غیر موجودگی نہیں، بلکہ عوامی اعتماد سے دوری کا استعارہ ہے۔ شہداء کا حق صرف بیانات سے نہیں، موجودگی اور احساس سے ادا ہوتا ہے۔
“جب اقتدار انسان کو احساس سے محروم کر دے تو وہ عوام کا نمائندہ نہیں رہتا، محض کرسی کا رکھوالا بن جاتا ہے۔”



