جب دروازے بند ہوں، تب دراڑوں سے بھی روشنی لانی پڑتی ہے!”
“جب دروازے بند ہوں، تب دراڑوں سے بھی روشنی لانی پڑتی ہے”
ایڈم بوہلر – ایک ایسا نام جو شاید عام افراد کے لیے نیا ہو، لیکن سفارتی حلقوں، خفیہ مذاکرات اور انسانی زندگیوں کے لیے جاری خاموش جدوجہد میں اس نام نے حالیہ برسوں میں خاص مقام حاصل کیا ہے۔ افغانستان، فلسطین، یا دیگر پیچیدہ خطے جہاں امریکی شہری یرغمال بنائے گئے، وہاں ایڈم بوہلر کی موجودگی اور کردار نہایت کلیدی رہا ہے۔
ایڈم بوہلر کون ہیں؟
ایڈم بوہلر امریکی کاروباری دنیا سے ابھرنے والی ایک نمایاں شخصیت ہیں جنہوں نے بعد ازاں حکومتی اداروں میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ صحت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں فعال رہے، اور پھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں انہیں مختلف حکومتی عہدوں پر فائز کیا گیا۔
وہ U.S. International Development Finance Corporation (DFC) کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) رہے، جہاں انہوں نے دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔ بعدازاں، ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں Special Presidential Envoy for Hostage Affairs نامزد کیا، تاکہ وہ دنیا بھر میں یرغمال بنائے گئے امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے براہِ راست سفارتی اور غیر روایتی اقدامات کر سکیں۔
اگرچہ ان کی باضابطہ نامزدگی قانونی پیچیدگیوں کے باعث واپس لے لی گئی، لیکن وہ اب بھی “Special Envoy for Hostage Response” کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
طالبان سے براہ راست مذاکرات: ایک جرأت مندانہ اقدام
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد متعدد امریکی شہری یا امدادی کارکن طالبان کی قید میں چلے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ ایسے میں واشنگٹن کو ایک خاموش لیکن مؤثر چینل کی ضرورت تھی تاکہ ان افراد کی بازیابی ممکن ہو سکے۔ اس نازک ذمہ داری کے لیے ایڈم بوہلر کو منتخب کیا گیا، جنہوں نے طالبان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے کابل میں براہ راست ملاقاتیں کیں۔
ان مذاکرات کا مقصد صرف یرغمالیوں کی رہائی ہی نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر ایک ایسا رابطہ بحال کرنا بھی تھا جس سے دو طرفہ اعتماد سازی کا آغاز ہو سکے۔ ملاقاتوں میں طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی شریک تھے، اور بات چیت میں امریکہ کے گمشدہ شہریوں، ممکنہ قیدیوں کے تبادلے، اور انسانی امداد کے راستے کھولنے پر گفتگو ہوئی۔
غیر روایتی ڈپلومیسی کا مؤقف
ایڈم بوہلر کی سفارتی حکمت عملی روایتی سفارت کاری سے مختلف ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انسانوں کی زندگی کسی بھی سیاسی یا نظریاتی پالیسی سے زیادہ اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان گروپوں سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہوتے ہیں جنہیں امریکہ یا مغرب عمومی طور پر “دہشت گرد تنظیمیں” قرار دیتا ہے۔
یہی حکمت عملی انہوں نے فلسطین میں بھی اپنائی، جہاں انہوں نے حماس سے بھی براہ راست مذاکرات کیے تاکہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے امریکی یا اسرائیلی شہریوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ اس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن ان کا کہنا تھا:
“میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ بے گناہ شہری محفوظ گھروں کو واپس پہنچیں، چاہے اس کے لیے کتنے ہی مشکل فیصلے کیوں نہ کرنے پڑیں۔”
سفارتی کامیابیاں اور عملی نتائج
ایڈم بوہلر کے اقدامات کے نتیجے میں کئی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ ان کی کوششوں سے امریکہ ان ممالک یا گروہوں سے رابطے میں آیا جن سے عام حالات میں سفارتی تعلقات ممکن نہ تھے۔ ان کی براہِ راست بات چیت کی پالیسی نے ایک نئی راہ دکھائی کہ صرف رسمی چینلز کے ذریعے نہیں، بلکہ خفیہ اور نجی رابطوں کے ذریعے بھی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
افغانستان میں امریکی شہریوں کے حوالے سے مثبت پیش رفت دیکھی گئی، اور طالبان کے ساتھ محدود سطح پر عملی تعاون کے آثار پیدا ہوئے۔ غزہ میں بھی کچھ پیش رفت سامنے آئی، جہاں امریکی شہریوں کی معلومات تک رسائی ممکن ہوئی۔
تنقید، تضادات اور قانونی چیلنجز
ایڈم بوہلر کو جہاں سراہا گیا، وہیں بعض حلقوں نے ان پر شدید تنقید بھی کی۔ ان کا حماس یا طالبان جیسے گروپوں سے براہ راست مذاکرات کرنا بعض امریکی پالیسی سازوں اور میڈیا حلقوں کو ناقابلِ قبول لگا۔ ان کے سرمایہ کاری ادارے سے تعلق کو لے کر مفادات کے ٹکراؤ کا مسئلہ بھی پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ان کی سرکاری نامزدگی واپس لے لی گئی۔
تاہم اس سب کے باوجود، وہ آج بھی امریکہ کے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایک کلیدی نمائندہ سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی خدمات جاری ہیں۔
انسانیت کی سفارت کاری
ایڈم بوہلر کی کہانی محض ایک فرد کی نہیں، بلکہ ایک ایسے اندازِ سفارت کی ہے جو سخت گیر پالیسیوں کے برعکس نرمی، اعتماد اور براہِ راست رابطے کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ دروازے نہیں کھٹکھٹاتے، بلکہ اگر سب بند ہوں تو دراڑ سے بھی روشنی اندر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات سب سے مؤثر سفارت کاری وہ ہوتی ہے جو اخبار کی سرخیوں میں نہیں آتی، بلکہ بند کمروں میں، خاموشی سے، انسانی جانوں کی قیمت پر ہوتی ہے۔



