دل دہلا دینے والا المیہ: عمان میں کشتی حادثے کے بعد بنوں کے 21 ماہی گیر تاحال لاپتہ، ایک زندہ بچ گیا

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے خوجڑی سے تعلق رکھنے والے 22 ماہی گیر عمان کے ساحلی علاقے میں کشتی حادثے کا شکار ہوئے۔ سات ستمبر کو پیش آنے والے اس المناک واقعے میں سے صرف ایک شخص، حمید اللہ، معجزانہ طور پر زندہ بچ نکلے، جو اب کراچی پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، باقی 21 افراد تاحال لاپتہ ہیں، اور ان کے اہل خانہ بے یقینی اور کرب کی حالت میں حکومت کی طرف سے کسی عملی اقدام یا تفصیل کے منتظر ہیں۔

حادثے کی تفصیلات: آگ، چیخیں اور سمندر میں چھلانگیں

حمید اللہ کے خاندان کو بھیجے گئے مبینہ آڈیو پیغام کے مطابق، کشتی میں اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

“ایک ایک کر کے سب سمندر میں کود گئے، کشتی خالی ہو گئی۔ میں کئی گھنٹے پانی میں تیرتا رہا، پھر ایک دوسری کشتی والوں نے مجھے جیکٹ پھینک کر بچایا۔”
حمید اللہ کا بیان

مقامی ردعمل: بے بسی اور صبر آزما انتظار

حادثے میں لاپتہ افراد کے خاندانوں کا تعلق ایک ماہی گیر برادری سے ہے، جو دہائیوں سے سمندر میں روزگار کی تلاش میں نکلتے رہے ہیں۔
شیر انداز، جن کا بیٹا اور دو چچازاد بھائی لاپتہ افراد میں شامل ہیں، کا کہنا ہے:

“میرے بیٹے کو گئے ہوئے ایک مہینہ ہو گیا، کچھ نہیں پتہ کہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔”

حکومتی ردعمل: تعزیت اور مالی اعلان، مگر عملی اقدامات کا فقدان

رکن صوبائی اسمبلی پختون یار خان نے بنوں جا کر لواحقین سے ملاقات کی اور فی کس 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی چیف سیکرٹری نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے، مگر تاحال وزارتِ خارجہ یا دیگر وفاقی اداروں کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

فیڈرل ایجنسی کی دلچسپی، مگر پیش رفت ندارد

ایف آئی اے کے اہلکار متاثرہ گاؤں سے تفصیلات تو حاصل کر چکے ہیں، لیکن لواحقین کے مطابق ان سے ابھی تک کوئی عملی رابطہ یا مزید معلومات شیئر نہیں کی گئی ہیں۔

ماہی گیری کا سفر کیسے طے ہوتا ہے؟

ماہی گیر پہلے کراچی سے ایران جاتے ہیں، پھر گوادر سے پاس حاصل کر کے عمان کے سمندر میں داخل ہوتے ہیں، جہاں وہ دو سے تین ماہ محنت کر کے اپنے گھر والوں کے لیے روزی کماتے ہیں۔


سوالات جو جواب طلب ہیں:

  • باقی 21 افراد کا کیا بنا؟

  • حادثے کی اصل وجہ کیا تھی؟

  • وفاقی حکومت کب حرکت میں آئے گی؟

  • سمندر پار مزدوروں کے تحفظ کے لیے کوئی مستقل پالیسی کیوں نہیں؟

یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں محنت کشوں کی زندگیوں کی قیمت صرف ان کے لواحقین جانتے ہیں۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور لاپتہ افراد کی تلاش اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں