دنیا کی اختراعی دوڑ میں کون آگے، کون پیچھے؟ اقوام متحدہ نے عالمی انوویشن انڈیکس جاری کر دیا!
گلوبل انوویشن انڈیکس 2025: دنیا کی اختراعی دوڑ میں کون آگے، کون پیچھے؟
انڈیکس کا تعارف
اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام جاری کردہ “گلوبل انوویشن انڈیکس 2025” دنیا بھر کے ممالک کی اختراعی (Innovation) صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے نفاذ کا ایک بین الاقوامی معیار ہے۔ اس انڈیکس میں ممالک کو مختلف عوامل کی بنیاد پر درجہ دیا جاتا ہے، جیسے:
-
تحقیق و ترقی (R&D) پر اخراجات
-
تعلیمی معیار
-
تکنیکی انفراسٹرکچر
-
کاروباری ماحول
-
اختراعی مصنوعات و خدمات
-
پالیسی سازی اور حکومتی معاونت
سب سے زیادہ اختراعی ممالک
2025 کی رپورٹ میں جو ممالک سرفہرست رہے، وہ یہ ہیں:
| درجہ | ملک |
|---|---|
| 1️⃣ | سوئٹزرلینڈ |
| 2️⃣ | سویڈن |
| 3️⃣ | امریکہ |
| 4️⃣ | برطانیہ |
| 5️⃣ | سنگاپور |
یہ تمام ممالک جدید تعلیم، تحقیق، اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کے ماڈل سمجھے جاتے ہیں۔
ایشیا میں کارکردگی
-
جنوبی کوریا اور سنگاپور نے ایشیا میں شاندار کارکردگی دکھائی۔
-
چین نے اپنی پوزیشن ٹاپ 15 میں برقرار رکھی، جو اس کی مسلسل جدت طرازی کی علامت ہے۔
پاکستان کی پوزیشن اور کارکردگی
| ملک | درجہ بندی (2025) | کل ممالک کی تعداد |
|---|---|---|
| پاکستان | 97ویں نمبر پر | 133 ممالک |
پاکستان کی کمزوریاں:
-
تحقیق و ترقی پر انتہائی کم اخراجات
-
ناقص تعلیمی نظام
-
تکنیکی انفراسٹرکچر کی کمی
-
کاروباری ماحول میں پیچیدگیاں
-
اختراعی سوچ کو حکومتی سطح پر کم ترجیح
ماہرین کی رائے:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے:
-
اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات
-
تحقیقی اداروں کی مضبوطی
-
ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری
-
سٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی سپورٹ
جیسے اقدامات نہ کیے تو عالمی ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
یہ صرف وارننگ نہیں، ایک موقع بھی ہے!
اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ صرف تنقید نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ یہ پالیسی سازوں، حکومت، اور تعلیمی اداروں کے لیے ایک “کال ٹو ایکشن” ہے کہ وہ ملک کو جدت کی راہ پر گامزن کریں۔




