سیہون کے حفاظتی بند کے مختلف مقامات پر سیلابی پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے!
سیہون کے حفاظتی بند کے مختلف مقامات پر سیلابی پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، جس سے علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سیہون میں حفاظتی بند: سیلابی پانی کی بڑھتی ہوئی سطح
سیہون شریف کے حفاظتی بند گزشتہ چند روز سے تیزی سے سیلابی پانی کے دباؤ میں ہیں۔ محکمہ آبپاشی اور متعلقہ حکام نے اطلاع دی ہے کہ دریائے سندھ اور اس کی شاخوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر سیہون کے حفاظتی بند کے چند حساس اور کمزور مقامات پر پانی کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
سیلابی پانی کے اضافے کی وجوہات
ماحولیاتی عوامل اور مون سون بارشوں کی تیز رفتاری کے باعث دریاؤں میں بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر اندرون سندھ اور اپر سندھ میں موسلا دھار بارشوں نے ندی نالوں کو بھر کر دریاؤں میں پانی کی آمد بڑھا دی ہے، جس کی وجہ سے سیہون کے حفاظتی بند پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی کے انجنئیرز کے مطابق بند کے ان حصوں پر پانی کی سطح اس لیے زیادہ ہو رہی ہے کیونکہ یہاں ریت اور مٹی کی تہہ پتلی ہے، جو ممکنہ خطرے کی نشان دہی کرتی ہے۔
حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات
محکمہ سندھ نے فوری طور پر حفاظتی بند کے حساس حصوں پر نگرانی بڑھا دی ہے اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ مزید برآں، سینئر حکام نے مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے الرٹ رہیں۔
سیہون اور قریبی دیہی علاقوں میں بھی حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانے کے لیے ریت کے تھیلے اور دیگر ہنگامی سازوسامان کی فراہمی جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بریچ (بند پھٹنے) کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
مقامی آبادی اور خدشات
سیہون کے رہائشیوں میں سیلابی پانی کے اضافے کو لے کر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بند میں دراڑ یا پھٹ پڑا تو نہ صرف ہزاروں افراد متاثر ہوں گے بلکہ زرعی زمینیں بھی زیر آب آ جائیں گی، جس سے خوراک کی پیداوار کو نقصان پہنچے گا۔
بعض مقامی رہنماؤں نے بھی حکام سے جلد از جلد بند کی مرمت اور حفاظتی انتظامات مضبوط کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے بچا جا سکے۔
متعلقہ اداروں کی تیاریاں اور الرٹ
-
محکمہ موسمیات نے مزید موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے سیلاب کے امکانات اور بڑھ سکتے ہیں۔
-
ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی ادارے الرٹ پر ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
-
سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے عارضی امدادی مراکز قائم کر رکھے ہیں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔
وقت کی اہم ضرورت ہے مستعدی
سیہون کے حفاظتی بند پر سیلابی پانی میں اضافہ ایک انتباہ ہے کہ وقت پر مناسب اقدامات کیے جائیں ورنہ بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ مل کر حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر بہتر بنائیں اور مقامی آبادی کو محفوظ رکھنے کے لیے بھرپور تیاری کریں۔




