عراق اور ایران کی ائیر لائنز کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کی تجویز
عراق اور ایران کی ائیر لائنز کو پاکستان آمد کی اجازت: مذہبی سیاحت کے فروغ کی نئی راہیں
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے حال ہی میں ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس میں عراق اور ایران کی ائیر لائنز کو پاکستان کے لیے پروازیں چلانے کی اجازت دی جائے۔ یہ تجویز پاکستان میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک تاریخی قدم تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ عراق اور ایران دونوں ممالک شیعہ اور سنی مسلمانوں کے لیے مقدس زیارات کے مرکز ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف مذہبی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا بلکہ زائرین کو آمد و رفت میں بھی خاطر خواہ آسانیاں میسر آئیں گی۔
مذہبی سیاحت کا فروغ اور اس کے سماجی و اقتصادی اثرات
مذہبی سیاحت پاکستان کے لیے ایک اہم شعبہ ہے جس سے ملکی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ عراق اور ایران کی ائیر لائنز کی پاکستان آمد سے زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جو ہوٹل، ریستوران، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھائے گا۔ مزید برآں، مذہبی سیاحت کے فروغ سے بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا، کیونکہ یہ اقدام مختلف مذہبی طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کا کردار اور کراچی سے خصوصی پروازیں
قائمہ کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو خصوصی ہدایت دی ہے کہ وہ کراچی سے عراق اور ایران کے مقدس مقامات کے لیے زیارات کی پروازیں شروع کرے۔ کراچی کے زائرین کے لیے یہ سہولت ایک خوش آئند قدم ہے کیونکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں مذہبی سیاحوں کا گھر ہے۔ پی آئی اے کی یہ نئی پروازیں زائرین کے سفر کو آسان اور سستا بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
پاکستان اور عراق کے درمیان فیری سروس کا آغاز
مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے پاکستان اور عراق نے گوادر اور ام قصر کے درمیان فیری سروس کے آغاز کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ فیری سروس نہ صرف مذہبی سیاحوں کے لیے سفر کو آسان اور سستا بنائے گی بلکہ دو طرفہ تجارت کو بھی فروغ دے گی۔ گوادر کی بندرگاہ کی ترقی اور اس طرح کی فیری سروس پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات: وزیراعظم کی قیادت میں کمیٹی کا قیام
مذہبی سیاحت کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی ہے جو ایران اور عراق سے آنے والے زائرین کی بحفاظت آمد و رفت کو یقینی بنائے گی۔ اس کمیٹی میں وفاقی سیکریٹری برائے مذہبی امور، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری میری ٹائم افیئرز اور تمام صوبائی چیف سیکریٹریز شامل ہیں۔ اس کا مقصد زائرین کے تحفظ، ان کی سہولت اور انتظامی مسائل کا فوری حل کرنا ہے تاکہ مذہبی سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سڑک کے ذریعے ایران و عراق کا سفر: پابندی اور تحفظات
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے سڑک کے ذریعے سفر پر پابندی کے معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو طلب کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت کو پاکستان میں رہنے والے تمام شہریوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور زائرین کو ان کے مذہبی سفر کی آزادی دی جانی چاہیے۔ سڑک کے راستے سفر پر پابندی کا مقصد سیکیورٹی وجوہات ہو سکتا ہے، لیکن کمیٹی کا موقف ہے کہ اس حوالے سے متوازن اور موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ زائرین کو آسانی اور تحفظ دونوں فراہم کیے جا سکیں۔
مجموعی طور پر مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کی اہمیت
عراق اور ایران کی ائیر لائنز کو پاکستان آنے کی اجازت دینا اور ساتھ ہی دیگر اقدامات جیسے فیری سروس کا آغاز، پی آئی اے کی خصوصی پروازیں اور سیکیورٹی انتظامات، پاکستان میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف مذہبی زائرین کی سہولت کے لیے ضروری ہیں بلکہ اس سے پاکستان کی بین الاقوامی شہرت اور معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔
مزید برآں، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی اتحاد کے فروغ کے لیے بھی یہ قدم اہم ہے کیونکہ مذہبی سیاحت مختلف طبقات کے درمیان روابط کو مضبوط بناتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے جاری کوششیں پاکستان کو ایک پرامن اور خوشحال ملک کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں گی۔




