علی امین گنڈا پور کا بیان — پارٹی میں منافق کون؟

علی امین گنڈا پو

جب ایک اہم رہنما، جو خود پارٹی کے صوبائی وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، کھل کر یہ کہتے ہیں کہ “پارٹی کے اندر منافق موجود ہیں” اور “یہی لوگ عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں”، تو یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ پارٹی کے اندرونی حالات کی عکاسی ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں اعتماد کا فقدان بہت گہرا ہو چکا ہے۔

پارٹی کی قیادت کے گرد ایسے حلقے موجود ہیں جو ذاتی مفادات کو پارٹی کے مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں عوامی نظر میں وفادار سمجھا جاتا تھا، اصل میں پارٹی کی نظریاتی سیاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ لوگ وفاداری کا لباس پہن کر درپردہ غداری کا کھیل کھیل رہے ہیں۔

یہی وہی سیاست کی وہی عکاسی ہے جس کے خلاف عمران خان نے ہمیشہ آواز بلند کی تھی، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اب وہی عناصر ان کی اپنی جماعت میں بھی سرایت کر چکے ہیں، جو پارٹی کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں۔


عمران خان کے قریبی ساتھیوں کی وفاداری یا غداری: ایک تلخ حقیقت

اگر ہم عمران خان کی سیاسی زندگی اور پارٹی کے قریبی افراد کا بغور جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہ افراد جو کبھی عمران خان پر مکمل اعتماد کرتے تھے، اکثر نے وقت کے ساتھ وفاداری بدل لی یا چپ چاپ پارٹی کی نظریاتی سیاست سے دور ہو گئے۔

جہانگیر ترین، جنہوں نے 2018 کے انتخابات میں پارٹی کے لیے اہم کردار ادا کیا، بعد میں اپنی سیاسی گروپنگ بنا کر پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔ علیم خان، جنہوں نے لاہور میں پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی، ان کے بھی پارٹی سے اختلافات سامنے آئے۔ پرویز خٹک جیسے بانی اراکین جو قیادت کے قریب تھے، وہ بھی آخرکار ناراض ہو کر اپنی الگ سیاسی راہ اپنائی۔

اسی طرح فواد چوہدری، عامر کیانی، اسد عمر اور شفقت محمود جیسے وہ تمام نام جو کیمروں پر عمران خان کی آواز تھے، آج یا تو خاموش ہیں یا اپنی سیاست الگ کر چکے ہیں۔ یہ تمام لوگ عمران خان کی طاقت اور ساکھ کے سہارے ابھرے، مگر جب وقت آیا تو انہوں نے پارٹی کے لیے اپنی وفاداری کو پیچھے چھوڑ دیا۔


غلط لوگوں پر بھروسہ کرنا عمران خان کی سب سے بڑی غلطی

عمران خان کی سیاست کی سب سے بڑی کمزوری یہ رہی کہ انہوں نے بار بار ایسے افراد کو اپنے قریب رکھا جو پارٹی کے مفادات کی بجائے اپنے ذاتی مفادات کی فکر کرتے رہے۔ انہوں نے سمجھا کہ طاقتور اور سسٹم کے قریب رہنے والے ہی پارٹی کو کامیابی دلا سکیں گے، مگر حقیقت میں یہی لوگ مشکل حالات میں پارٹی سے دور ہو گئے یا پھر خاموش ہو کر اپنی علیحدہ سیاست چمکانے لگے۔

آج جب عمران خان مشکلات میں ہیں اور پارٹی سخت بحران سے گزر رہی ہے، تو وہ چہرے جو پہلے سامنے آ کر فائدے اٹھاتے رہے، یا تو پسِ پردہ چلے گئے ہیں یا پھر سازشی محاذ پر سرگرم ہیں۔


علی امین گنڈا پور کا بیان اور پارٹی میں بڑھتی ہوئی دراڑیں

علی امین گنڈا پور جیسے نظریاتی کارکن کا یہ بیان کہ “ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں” پارٹی کے اندر موجود شدید بحران کی علامت ہے۔ یہ بیان دراصل اندرونی بغاوت کی گھنٹی کی مانند ہے، جو بتاتا ہے کہ عمران خان تک رسائی کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ پارٹی میں کوئی “نئی قیادت” عمران خان کی قیادت کو کاٹنے کے لیے سرگرم ہو۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک نظریاتی بلکہ عملی بحران کا اشارہ ہے، جس سے پارٹی کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔


پارٹی کی داخلی صفوں کی صفائی ضروری ہے:

عمران خان نے جن پر اعتماد کیا، ان میں سے اکثر نے وقت کے ساتھ وفاداری بدلی یا خاموش تماشائی بن گئے۔ اب جب ان کے نظریاتی ساتھی بھی کھل کر بات کر رہے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف بیرونی حملوں بلکہ اندرونی منافقت کا بھی شکار ہے۔

اگر عمران خان اور ان کی قیادت نے جلدی اس اندرونی سازش اور منافقت کو کنٹرول نہ کیا، تو پی ٹی آئی کی نظریاتی سیاست کا سفر مزید مشکل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ پارٹی کی بقا اور مضبوطی کے لیے داخلی صفوں کی صفائی اور وفادار کارکنوں کو سامنے لانا ناگزیر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں