“عمران خان ڈیل نہیں کریں گے، سر اٹھا کر واپس آئیں گے” — تحریک انصاف کا دوٹوک مؤقف

لاہور پریس کلب میں سلمان اکرم راجہ کی بھرپور پریس کانفرنس

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ایک پرجوش پریس کانفرنس میں واضح کر دیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان کسی بھی سیاسی سودے بازی کے لیے تیار نہیں اور وہ سر بلند کر کے عوام میں واپس آئیں گے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی تناؤ عروج پر ہے اور اپوزیشن حکومت پر دھاندلی، آئینی خلاف ورزیوں اور انتقامی کارروائیوں کے الزامات عائد کر رہی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ پارٹی رہنما شوکت بسرا، شایان بشیر اور عمر ڈار بھی موجود تھے، جو نہ صرف سیاسی یکجہتی کا مظہر تھا بلکہ پی ٹی آئی کے اندر اتحاد اور عزم کا پیغام بھی دے رہا تھا۔


انتخابات 2024: دھاندلی کے الزامات اور کامن ویلتھ رپورٹ

پریس کانفرنس کے دوران سلمان اکرم راجہ نے خاص طور پر کامن ویلتھ مبصرین کی رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں 90 سے 95 حلقوں میں فارم 45 اور فارم 46 کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے اس فرق کو انتخابی نتائج میں “بے قاعدگی” نہیں بلکہ منظم ہیرا پھیری قرار دیا۔

“یہ انتخابی نظام پر ایک کھلا حملہ ہے، اور اس کا فائدہ صرف ایک ہی فریق کو ہوا — وہ جو آج اقتدار میں ہے۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان حلقوں کا فوری آڈٹ کیا جائے اور انتخابی کمیشن کو ان تضادات پر جوابدہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے، تو اس کے نتائج صرف سیاسی نہیں، بلکہ قومی سطح پر خطرناک ہوں گے۔


بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ پر سوالات

سلمان اکرم راجہ نے عالمی سطح پر پاکستان کی سیاسی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ تاثر جڑ پکڑ رہا ہے کہ پاکستان میں آئین کو پامال کیا جا رہا ہے اور جمہوری ادارے مفلوج ہو چکے ہیں۔

“کیا یہ باعثِ شرم نہیں کہ دنیا ہمیں جمہوریت کے قاتل کے طور پر دیکھ رہی ہے؟”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین میں کی گئی غیر قانونی ترامیم کو واپس لیا جائے گا اور پارلیمانی عمل کو دوبارہ فعال اور شفاف بنایا جائے گا۔


پارلیمنٹ اور عدلیہ کے کردار پر سخت تنقید

سلمان اکرم راجہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ نظام میں پارلیمان کو بے اختیار کر دیا گیا ہے اور عدالتی نظام کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا نظام اگر سیاسی انتقام کا آلہ بن جائے تو اس سے ریاست کے بنیادی ستون کمزور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:

“اگر عدالتیں صرف مخصوص جماعتوں کے لیے انصاف بانٹیں، تو پھر جمہوریت کے بجائے آمریت کا راج ہوتا ہے۔”

یہ تنقید صرف عدلیہ پر نہیں، بلکہ اس وسیع تر نظام پر تھی جو اختلافِ رائے کو دبانے اور عوام کی آواز کو بے اثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


اسمبلی سے استعفے یا بائیکاٹ؟ فیصلہ صرف عمران خان کا ہوگا

پریس کانفرنس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا پی ٹی آئی اسمبلی میں بیٹھے گی یا اس سے استعفیٰ دے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف اور صرف پارٹی کے بانی عمران خان کریں گے۔

“ہم اصولوں پر سیاست کرتے ہیں، اقتدار کی سیاست نہیں۔ عمران خان کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا، اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

اس بیان نے عمران خان کی مرکزی حیثیت اور پارٹی کے اندر ان کی غیر متزلزل قیادت کو ایک بار پھر واضح کر دیا۔


“ڈیل نہیں ہوگی” — سیاسی عزم یا خطرناک ضد؟

شاید پریس کانفرنس کا سب سے اہم اور بار بار دہرایا گیا جملہ یہی تھا:

“عمران خان ڈیل نہیں کریں گے، سر اٹھا کر واپس آئیں گے۔”

یہ بیان نہ صرف پارٹی کے اندر حوصلہ پیدا کرتا ہے، بلکہ ان تمام افواہوں کو بھی رد کرتا ہے جو عمران خان کی ممکنہ مفاہمت یا بیرونی دباؤ کے تحت سمجھوتے سے متعلق گردش کر رہی تھیں۔

لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق، اس مؤقف میں سیاسی حکمت اور اصولی ضد کے درمیان ایک باریک لکیر ہے۔ اگر سیاسی حالات مزید بگڑتے ہیں تو کیا عمران خان کا یہی مؤقف پارٹی کو مزید تنہائی کا شکار کرے گا؟ یا یہی سخت مؤقف اسے دوبارہ ابھارنے کا ذریعہ بنے گا؟ یہ سوال اب سیاسی منظرنامے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔


تحریک انصاف کا اگلا قدم؟

پریس کانفرنس کے اختتام پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ:

“ہم عدالتوں میں بھی جائیں گے، عوام کے پاس بھی، اور دنیا کے سامنے بھی سچ رکھیں گے۔ یہ جنگ آئینی اور عوامی حقوق کی ہے، اور ہم یہ جنگ ہر فورم پر لڑیں گے۔”

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی صرف سڑکوں یا بیانات پر نہیں بلکہ قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر بھی متحرک ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔


 ایک پُرعزم مگر پُرخطر راستہ

سلمان اکرم راجہ کی پریس کانفرنس نے ایک بات تو واضح کر دی: پی ٹی آئی اپنی قیادت، مؤقف اور بیانیے پر قائم ہے۔ لیکن آگے کا راستہ آسان نہیں۔ عمران خان کی واپسی، ڈیل سے انکار، اور دھاندلی کے خلاف تحریک — یہ سب اس وقت ممکن ہوں گے جب عوامی ردِعمل، قانونی جنگ اور عالمی دباؤ اکٹھے ہو جائیں۔

اس وقت کے لیے، پارٹی کا پیغام سادہ مگر مضبوط ہے:

“ہم نہ جھکیں گے، نہ بکیں گے — اور نہ ہی ڈیل کریں گے۔”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں