“لاہور ایئرپورٹ پر معروف یوٹیوبر ‘ڈکی بھائی’ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی”

سوشل میڈیا کی دنیا میں اپنے تیز طرزِ اظہار اور بحث مباحثے سے خاص شہرت رکھنے والے یوٹیوبر سعید الرحمان، معروف بطور ڈکی بھائی، کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے انہیں گرفتار کیا جب وہ دبئی سے وطن واپس پہنچے، اور یہ بات سامنے آئی کہ ان کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل تھا، جس کی وجہ سے انہیں ایئرپورٹ پر ہی روک لیا گیا۔ یہ گرفتاری اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کیونکہ رواں سال اپریل میں ان پر موٹروے پولیس نے خطرناک ڈرائیونگ، اسٹنٹ اور رفتار کی زیادتی کے الزامات میں مقدمات درج کیے تھے، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت بھی فراہم کی تھی۔

پسِ منظر اور قانونی صورتِ حال:

گرفتاری کی وجوہات
ڈکی بھائی کے خلاف کیسز سوشل میڈیا پر جوئے کی ترغیب اور فحش مواد اپلوڈ کرنے کے الزامات کی بنیاد پر شروع ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں NCCIA نے تحقیقات کا آغاز کر رکھا ہے، اور PNIL میں نام شامل ہونے کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا۔

گذشتہ قانونی جھگڑے
اپریل 2025 میں، موٹروے پولیس نے ان پر سڑک پر خطرناک اسٹنٹ کرتے ہوئے گاڑی چلانے اور غلط ویڈیوز اپلوڈ کرنے کے الزامات عائد کیے، جن پر لاہور ہائی کورٹ نے انہیں حفاظتی ضمانت (pro‑arrest bail) فراہم کی۔ اس ضمانت کے تحت ان کے خلاف گرفتاری کو وقتی طور پر معطل کیا گیا تھا، اور انہیں عدلیہ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔

قانونی اور سماجی عکس:

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا پر سیاسی یا طنزیہ مواد پیش کرنے والے اثرورسوخ رکھنے والے افراد بھی قانونی دائرہ کار سے باہر نہیں ہیں۔ PNIL کے نامزد افراد کو پابندی کا شکار بننا، اور ٹریفک اور سائبر قوانین کی خلاف ورزیوں پر گرفتاری اہم نشانی ہے کہ بااثر بھی عدالتی کارروائیوں سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

یوزر ردعمل:

ریڈٹ یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر افراد کے ردعمل متاثر کن ہیں:

“یہ لوگ شور مچاتے ہیں، پھر اپنی غلطیوں کا ٹرائل کرتے وقت محفوظ رہتے ہیں—ٹائم ہے کہ قانون نسبتاً برابر ہو جائے”
“سوشل میڈیا پر وقتی آزادی مگر حقیقی زندگی میں حساب کتاب لازم ہے”

اس قسم کے تبصرے ظاہر کرتے ہیں کہ عوام میں قانونی عملداری کی حمایت ہے، بشرطیکہ اس عمل سے اثر و رسوخ کے حامل افراد بھی مستثنیٰ نہ ہوں۔

نتیجہ و بلاگ کا اختتام:

ڈکی بھائی کی گرفتاری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ:

سوشل میڈیا پر مواد آفاقی آزادی کا معرضہ نہیں — قوانین سوشل اور ڈیجیٹل دائرہ دونوں میں یکساں طور پر لاگو ہیں۔

اثرورسوخ کے ساتھ قانونی ذمہ داری بھی آتی ہے — چاہے وہ طنز یا کامیڈی ہی کیوں نہ ہو۔

عوام اور عدالتیں دونوں کی توجہ قانون کی یکساں نفاذ پر مرکوز ہے — چاہے آیا شخص مشہور ہو یا نہ ہو۔

بلاگ کے لیے تجویز:

اپنے بلاگ کو اختتامیہ جذباتی اور فکر انگیز تبصرے سے ختم کریں، مثلاً:

“آیا یہ معاملہ قانونی اصول کی برابری کا عکاس بنتا ہے؟ یا صرف میڈیا کی نظر میں ایک اور ڈرامہ؟ درحقیقت جو کچھ بھی سامنے آیا، اس سے یہ واضح ہے کہ ‘عظیم’ سماجی اپیل یا شخصیت کے پیچھے بھی قانون خاموش نہیں رہتا۔”

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں