مصر کا بڑا اعلان: عرب ممالک کے لیے نیٹو طرز پر مشترکہ فوجی اتحاد کی تیاری مکمل

حالیہ دنوں میں مصر نے اعلان کیا ہے کہ وہ عرب ممالک کے درمیان ایک مشترکہ فوجی اتحاد قائم کرنے کے لیے مکمل منصوبہ بندی تیار کر چکا ہے — جو نیٹو (NATO) طرز پر ہو گا۔ اس کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز، ایرانی اثر و رسوخ، دہشت گردی، اور اسرائیل و فلسطین کے مسئلے جیسے معاملات پر ایک متحد عرب ردِعمل کو یقینی بنانا ہے۔


نیٹو (NATO) کیا ہے؟

NATO یعنی North Atlantic Treaty Organization ایک بین الاقوامی دفاعی اتحاد ہے جو 1949 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ:

  • اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو باقی تمام ممالک اس حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کریں گے (یہ نیٹو کا آرٹیکل 5 ہے)۔

  • نیٹو کے ارکان مل کر اپنے مشترکہ دفاع کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

  • فوجی مشقیں، انٹیلیجنس شیئرنگ، عسکری تربیت، اور اسلحہ جات میں ہم آہنگی نیٹو کا حصہ ہیں۔

فی الحال نیٹو کے رکن ممالک میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ترکی سمیت 30 سے زائد ممالک شامل ہیں۔


مصر کا “عرب نیٹو”: پس منظر اور وجوہات

مصر کا یہ تصور نیا نہیں، لیکن اب اسے عملی شکل دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے پیچھے کئی بڑی وجوہات ہیں:

  1. خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال:
    اسرائیل-فلسطین تنازع، یمن، شام، لیبیا اور سوڈان جیسے ممالک میں عدم استحکام۔

  2. ایران کا بڑھتا ہوا اثر:
    ایران کی عسکری مداخلت اور پراکسی ملیشیاؤں کے ذریعے عرب ممالک میں عدم توازن پیدا ہونا۔

  3. عرب اتحاد کا فقدان:
    او آئی سی اور عرب لیگ جیسے ادارے سیاسی بیانات تک محدود ہو چکے ہیں، ان میں عملی طاقت اور یکجہتی کی شدید کمی ہے۔

  4. امریکی و مغربی اعتماد میں کمی:
    نیٹو اور مغرب کی مشرقِ وسطیٰ میں دلچسپی محدود ہو رہی ہے۔ اب عرب ممالک خود کو زیادہ خود مختار اور طاقتور بنانا چاہتے ہیں۔


مصر کا منصوبہ: کن نکات پر مبنی ہے؟

مصر نے اس نئے عرب دفاعی اتحاد کے لیے درج ذیل نکات کی بنیاد رکھی ہے:

  • مشترکہ دفاعی معاہدہ: اگر کسی عرب ملک پر حملہ ہو، تو باقی ممالک مل کر اس کا دفاع کریں۔

  • فوجی انٹیلیجنس کا اشتراک: دہشت گرد تنظیموں اور دشمن ریاستوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ۔

  • متحدہ عسکری کمان: ایک مشترکہ عسکری کمانڈ سنٹر جو تمام عرب افواج کی ہم آہنگی کرے۔

  • تربیت اور اسلحہ جاتی ہم آہنگی: عرب ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے نظام سے ہم آہنگ بنانا۔

  • عرب ساختہ اسلحہ سازی: ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کرنا۔


کون کون سے ممالک شامل ہو سکتے ہیں؟

اگرچہ تاحال کسی ملک نے باضابطہ شمولیت کا اعلان نہیں کیا، لیکن ممکنہ شرکاء میں شامل ہو سکتے ہیں:

  • خلیجی ممالک: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، عمان، کویت

  • شام، عراق، اردن، لبنان

  • شمالی افریقہ: الجزائر، مراکش، تیونس، لیبیا

  • افریقی مسلم ریاستیں: سوڈان، موریطانیہ

  • فلسطین (سیاسی سطح پر)

ترکی اس اتحاد کا ممکنہ حصہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے، اور عرب اتحاد کی توجہ زیادہ تر عرب ممالک پر ہے۔


کامیابی کے چیلنجز

اس طرح کا اتحاد بنانا کاغذ پر آسان، مگر عمل میں بہت مشکل ہے۔ چند اہم رکاوٹیں یہ ہیں:

  • عرب ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات

  • ایران کے ساتھ بعض ممالک کے تعلقات

  • فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر متضاد پوزیشنز

  • امریکہ اور مغرب کا دباؤ یا مداخلت

  • اقتصادی کمزوری یا عسکری ناہمواری


کیا “عرب نیٹو” کامیاب ہو سکتا ہے؟

اگر عرب دنیا سنجیدگی سے سیاسی انا سے بالاتر ہو کر صرف اجتماعی سلامتی اور خودمختاری کو سامنے رکھے، تو یہ اتحاد نہ صرف ممکن بلکہ کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔
نیٹو جیسا اتحاد بنانے کے لیے صرف عسکری نہیں، بلکہ سفارتی ہم آہنگی، اعتماد، اقتصادی تعاون اور مسلسل عزم کی ضرورت ہوگی۔


مصر کا “نیٹو طرز کا عرب دفاعی اتحاد” کا تصور اس خطے کی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔ یہ اتحاد صرف ہتھیاروں کا نہیں، بلکہ عزت، خودمختاری اور تحفظ کا اتحاد ہونا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عرب دنیا ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ کر واقعی متحد ہو پائے گی، یا یہ اعلان بھی محض خبروں تک محدود رہے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں