“میچ نہ کھیلنے کی دھمکی نہیں، شکست کے خوف کا اعتراف ہے!
میچ نہ کھیلنے کی دھمکی نہیں، شکست کے خوف کا اعتراف ہے!
بھارتی سیاست میں جب دلیلیں کم پڑ جائیں تو “قومی سلامتی” یا “دشمن ملک” جیسے بیانات سے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا پرانا ہتھکنڈہ بن چکا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے یہی حربہ استعمال کیا جب انہوں نے پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے کے معاملے کو ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا بہانہ بنا کر پیش کیا۔
پاکستان کے خلاف میچ سے انکار: کھیل یا سیاسی چال؟
انوراگ ٹھاکر کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی محض کرکٹ کے نام پر قوم پرستی کی سیاست کر رہی ہے۔ اگر کھیل واقعی صرف کھیل ہوتا، تو اس میں سیاست کی مداخلت نہ ہوتی۔ لیکن جب پاکستان کے خلاف کھیلنے یا نہ کھیلنے کو “قومی وقار” یا “سلامتی” سے جوڑا جاتا ہے، تو صاف ظاہر ہے کہ مقصد کھیل نہیں، بلکہ ووٹ بینک کو گرمانا ہے۔
بی جے پی کا خوف: میچ سے زیادہ شکست کا خطرہ
اصل ڈر یہ نہیں کہ بھارت ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان سے ہار جائے تو بی جے پی کو سیاسی طور پر بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو کروڑوں بھارتیوں کے جذبات سے جڑا ہوا ہے، اور اگر روایتی حریف پاکستان سے شکست ہو جائے، تو یہ مودی سرکار کے لیے عوامی غصے کا باعث بن سکتی ہے۔
سیاسی میدان میں کانگریس کا دباؤ
یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کو کرکٹ کی شکست سے زیادہ سیاسی میدان میں خطرہ ہے۔ کانگریس نے اب دوبارہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنا شروع کر دی ہے، خاص طور پر مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، اقلیتوں کے ساتھ سلوک اور جمہوری اداروں کی خودمختاری پر سوالات اٹھا کر بی جے پی کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
بی جے پی جانتی ہے کہ اگر کوئی بڑا عوامی جذباتی جھٹکا لگا، جیسے کہ پاکستان سے کرکٹ میں شکست، تو یہ کانگریس کے بیانیے کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
کھیل کو سیاست کا ایندھن بنانا کب بند ہوگا؟
کیا کرکٹ میں سیاست کی مداخلت سے کھیل کا حسن برقرار رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! کھیل کا مقصد دو قوموں کو میدان میں جوڑنا ہوتا ہے، نہ کہ نفرت، الزام اور سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا۔ بھارت کو سوچنا ہوگا کہ وہ کھیل کے میدان کو عوامی اشتعال انگیزی کا پلیٹ فارم بنانا چاہتا ہے یا عالمی سطح پر ایک ذمہ دار کھیلوں کی قوم کے طور پر پیش آنا چاہتا ہے۔
کیا مودی کو شکست کا سامنا ہے؟
اگر کھیل کے میدان میں بھارت ہار بھی جائے تو یہ صرف ایک کھیل کی شکست ہوگی، لیکن سیاسی میدان میں بی جے پی اگر ہارتی ہے، تو وہ “اعتماد کا ووٹ” ہارے گی۔ اور فی الحال، کانگریس نے جو عوامی مسائل پر مؤثر دباؤ ڈالا ہے، وہ مودی حکومت کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
کھیل کو کھیل رہنے دیں، سیاست کو سیاست
یہ وقت ہے کہ بی جے پی اور اس کے رہنما اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور کرکٹ جیسے عالمی کھیل کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔ عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اصل میچ صرف میدان میں نہیں، بلکہ پارلیمنٹ، عدالتوں اور عوامی زندگی میں بھی ہو رہا ہے — اور وہاں شکست یا جیت، صرف ایک اسکور بورڈ کا مسئلہ نہیں، پورے ملک کی سمت کا تعین کرتی ہے۔



