“میں وکیل ہوں، کارکن نہیں – عدالت کو غیرجانبدار رہنا چاہیے”

ایمان مزاری کی جانب سے ایک پیشہ ورانہ وضاحت اور اصولی مؤقف

تمہید: کیس کا پس منظر

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کیا گیا ہے، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست زیر سماعت ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 16 ستمبر کو طے ہے۔ ڈاکٹر بلوچ ایک سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کی علمبردار ہیں جنہوں نے ہمیشہ پرامن جمہوری جدوجہد کی ہے۔ ان کا مقدمہ محض ایک قانونی مسئلہ ہے، نہ کہ کوئی سیکیورٹی رسک۔


 ایمان مزاری کا مؤقف:

“میں عدالت میں بطور وکیل پیش ہو رہی ہوں، نہ کہ بطور کارکن”

ایمان مزاری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس کیس میں بطور پیشہ ور وکیل پیش ہو رہی ہیں، نہ کہ کسی سیاسی یا ذاتی ایجنڈے کے ساتھ۔ وہ کہتی ہیں:

“چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ میں ان کی عدالت میں کوئی سرگرم کارکن نہیں ہوں۔ میں ایک وکیل ہوں جو اپنے مؤکل کی نمائندگی کر رہی ہوں، اور میں اپنے پیشہ ورانہ آداب کے مطابق پیش آتی ہوں — عدالت کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔”

یہ وضاحت اس لیے دی گئی کیونکہ بعض عدالتی رویوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وکیل کی سیاسی شناخت یا پس منظر کو عدالتی کارروائی میں مدنظر رکھا جا رہا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔


 ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے حق میں بولنے کی وجہ:

ایمان مزاری ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی وکالت کر رہی ہیں کیونکہ:

  • 🔹 یہ ایک قانونی حق کا مسئلہ ہے – ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا بیرونِ ملک سفر کرنا ان کا آئینی حق ہے، جب تک کہ کوئی قانونی طور پر ثابت شدہ رکاوٹ نہ ہو۔

  • 🔹 عدالت میں غیرجانبداری کی ضرورت ہے – کسی بھی ذاتی شکایت یا وکیل کی رائے سے مؤکل کے قانونی حق پر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔

  • 🔹 انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی شہری کو سیاسی خیالات کی بنیاد پر محدود نہ کیا جائے۔

  • 🔹 ایمان مزاری خود ایک وکیل ہیں جن کا کام آئین و قانون کی روشنی میں اپنے مؤکل کا دفاع کرنا ہے — اس کردار کو سیاسی رنگ دینا پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف ہے۔


 عدالتی رویہ اور آئینی تقاضے:

ایمان مزاری نے عدالت سے توقع ظاہر کی ہے کہ:

  • وہ اپنی کارروائی میں مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے گی؛

  • وکیل اور جج کے درمیان کسی اختلاف کو مؤکل کے کیس پر اثرانداز نہیں ہونے دے گی؛

  • اور آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی، خاص طور پر جب بات شہری آزادیوں اور نقل و حرکت کے حق کی ہو۔

“قانونی مؤقف کو ذاتی رائے سے نہ جوڑا جائے”

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا کیس ایک آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، جس کا فیصلہ مکمل غیرجانبداری، قانونی اصولوں، اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ ایمان مزاری کی وضاحت اس لیے ضروری تھی تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ وکیل کی سیاسی شناخت کو مؤکل کے حق پر اثرانداز نہ ہونے دیا جائے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں