نیپال میں تاریخ نے کروٹ لی ہے — سابق چیف جسٹس سُشیلا کارکی پہلی بار عبوری وزیرِ اعظم
نیپال میں زی جنریشن اور نیپو کڈز کی جنگ اشرافیہ کے خلاف ایک بےمثال بغاوت میں بدل چکی ہے
نیپال میں سیاسی ہلچل اور عوامی بغاوت کے عروج پر سابق چیف جسٹس سُشیلا کارکی پہلی خاتون نگراں وزیرِ اعظم کے طور پر سامنے آئی ہیں، جو ملک کے سیاسی نظام میں تبدیلی کی ایک نئی امید کی کرن بن چکی ہیں۔
نیپال کا سیاسی بحران اور عوام کی بیداری
نیپال گزشتہ چند مہینوں سے شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر زی جنریشن، جو 1997 سے 2013 کے درمیان پیدا ہوئی، اپنی زندگی کے ہر شعبے میں ناانصافی اور کرپشن کے خلاف سڑکوں پر اتر آئی ہے۔ انہوں نے اشرافیہ کی اولاد یعنی نیپو کڈز کے خلاف مظاہرے شروع کیے جو ریاستی وسائل پر قابض ہیں اور غریب عوام کو حق نہیں دیتے۔ اس غم و غصے نے ملک کو سیاسی طور پر مکمل بحران میں ڈال دیا، جس کے نتیجے میں حکومت مستعفی ہو گئی اور ملک میں عبوری انتظامیہ کی ضرورت پیدا ہو گئی۔
سُشیلا کارکی کی شخصیت اور قانونی پس منظر
سُشیلا کارکی نیپال کی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس رہ چکی ہیں۔ ان کی قانونی مہارت اور عدالتی خدمات نے انہیں ملک میں ایک بے حد معزز اور اصول پسند شخصیت بنا دیا ہے۔ ان کا شمار ان ججز میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فیصلوں میں سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شفاف اور منصفانہ فیصلے دیے۔ انہوں نے کئی اہم مقدمات میں کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت موقف اپنایا اور انصاف کے معیار کو بلند کیا۔ اس پس منظر کی وجہ سے نوجوانوں نے انہیں بطور نگراں وزیرِ اعظم قبول کیا اور ان سے سیاسی نظام کی اصلاحات کی امید لگائی۔
نگراں وزیرِ اعظم بننے کی ضرورت اور سُشیلا کارکی کا انتخاب
نیپال میں سیاسی بحران اتنا شدید تھا کہ حکومت کا کوئی بھی سربراہ ملک کو اس وقت کی چیلنجز سے نکالنے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے ایک غیر جانبدار اور تجربہ کار شخصیت کی تلاش شروع کی، جو ملک کو عبوری مدت کے دوران سیاسی استحکام فراہم کر سکے۔ سُشیلا کارکی، جنہوں نے اپنی عدالتی زندگی میں انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کیا، کو اس لیے منتخب کیا گیا کہ وہ سیاسی تنازعات سے آزاد، اعتماد بخش اور نوجوان نسل کی توقعات کے عین مطابق تھیں۔
عوامی توقعات اور نوجوانوں کا جذبہ
نیپال کی زی جنریشن نے سُشیلا کارکی کو اپنی نمائندہ شخصیت کے طور پر قبول کیا ہے کیونکہ وہ ان کے مسائل اور مطالبات کو سمجھتی ہیں۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ نیپو کڈز کی جانب سے کی جانے والی ناانصافیوں کا خاتمہ ہو، بدعنوان سیاستدانوں کا احتساب کیا جائے، اور ملک میں شفافیت اور مساوات کا نظام قائم ہو۔ یہ نسل پرانے سیاسی ڈھانچوں اور اشرافیہ کی طاقت سے بیزار ہے اور حقیقی تبدیلی کی خواہاں ہے۔ سُشیلا کارکی کو اس تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ وہ ان توقعات پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اہم چیلنجز اور سیاسی ذمہ داریاں
سُشیلا کارکی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج نیپال کے سیاسی بحران کو ختم کرنا اور عبوری حکومت کے ذریعے ملک کو مستحکم بنانا ہے۔ انہیں عوامی اعتماد بحال کرنا ہوگا، جس میں مظاہرین کی جانوں کے نقصان اور بدعنوانی کے معاملات شامل ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگلے انتخابات کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے کرائیں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت کا نفاذ ہو سکے۔ اس کے علاوہ، انہیں فوج، پولیس، اور انتظامیہ کو عوام کے تابع بنانے اور سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔
عدلیہ اور حکومت کے درمیان توازن
سُشیلا کارکی کی عدالتی زندگی ان کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کو مقدم رکھا ہے۔ تاہم، عبوری وزیرِ اعظم کے طور پر انہیں سیاست اور قانون کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ عدلیہ آزاد رہے اور سیاسی بحران کے باوجود حکومتی فیصلے قانون کے دائرے میں ہوں۔ اس سے نیپال میں جمہوری نظام کی مضبوطی اور عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہو گا۔
بین الاقوامی منظرنامہ اور نیپال کی سیاسی مستقبل
نیپال ایک جغرافیائی لحاظ سے حساس ملک ہے جہاں چین اور بھارت کے علاوہ دیگر عالمی قوتیں بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ سُشیلا کارکی کی قیادت میں عبوری حکومت کے لیے یہ چیلنج بھی ہے کہ وہ بیرونی دباؤ سے آزاد رہتے ہوئے ملک کے مفادات کو ترجیح دے۔ انہیں عالمی برادری کو قائل کرنا ہوگا کہ نیپال میں امن و استحکام واپس آ رہا ہے تاکہ ملک کی ترقی کا راستہ ہموار ہو سکے۔ ساتھ ہی، انہیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ملکی سیاست میں بیرونی مداخلت کم سے کم ہو۔
نیپال کے لیے نیا باب
سُشیلا کارکی کا نگراں وزیرِ اعظم بننا نیپال کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ ملک اپنے پرانے مسائل، خاص طور پر کرپشن، نیپوٹزم اور سیاسی عدم شفافیت کو جڑ سے ختم کرے۔ نوجوان نسل کی حمایت کے ساتھ، اگر کارکی کامیابی سے عبوری مدت گزار لیں تو یہ نیپال کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہوگا، جو جنوبی ایشیا میں جمہوری استحکام کی ایک مثال بن سکتا ہے۔ ان کا کردار یہ طے کرے گا کہ آیا نیپال واقعی اپنے سیاسی بحران سے باہر نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا یا نہیں۔



