وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے دوحہ پہنچ گئے

دوحہ (قطر)، 15 ستمبر 2025:

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف آج قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے، جہاں وہ ہنگامی عرب-اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد بھی موجود ہے، جس میں وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر، اور دفتر خارجہ کے سینئر حکام شامل ہیں۔ وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے پوری مسلم دنیا کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔


 کانفرنس کی اہمیت: ایک نازک موڑ پر مسلم قیادت کا اجتماع

یہ ہنگامی سربراہی کانفرنس عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی مشترکہ کاوش سے طلب کی گئی ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران، بالخصوص غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، اور مسلم دنیا کو درپیش دیگر چیلنجز پر مشترکہ موقف اپنانا ہے۔

کانفرنس میں سعودی عرب، ترکی، ایران، انڈونیشیا، مصر، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، قطر، اور دیگر کلیدی اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت کی شرکت متوقع ہے۔

مبصرین کے مطابق، یہ کانفرنس اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں مسلم دنیا کو پہلی بار موقع مل رہا ہے کہ وہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ مسائل پر ایک مربوط اور متحد حکمت عملی سامنے لائے۔


 وزیراعظم کا ایجنڈا: دوٹوک موقف اور اصولی مؤقف

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس کے دوران ایک پُراثر خطاب کریں گے، جس میں وہ پاکستان کا مؤقف پوری قوت سے پیش کریں گے۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہوں گے:

  • فلسطین میں فوری جنگ بندی کی اپیل اور انسانی امداد کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت؛

  • فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی غیر مشروط حمایت؛

  • امتِ مسلمہ کے اندر اتحاد و یگانگت کی اشد ضرورت؛

  • اسلاموفوبیا کے خلاف اجتماعی عالمی ردعمل؛

  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایک جامع پالیسی بیان کے ذریعے یہ باور کرائیں گے کہ پاکستان نہ صرف علاقائی امن کا خواہاں ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے گا۔


 متوقع دو طرفہ ملاقاتیں: سفارتکاری کے نئے در وا ہوں گے

اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی دیگر عالمی رہنماؤں سے اہم دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ ان میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، اور ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے علاوہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ملاقات شامل ہو سکتی ہے۔

ان ملاقاتوں میں باہمی تجارت، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی، اور افغان صورتحال پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا مقصد صرف زبانی بیانات تک محدود رہنے کے بجائے، عملی تعاون کے دروازے کھولنا اور مسلم ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری کی بنیاد رکھنا ہے۔


 دفتر خارجہ کا مؤقف: پاکستان کا کردار ایک ذمہ دار ریاست کا

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے:

“پاکستان ہمیشہ سے مسلم امہ کے مسائل کو سفارتکاری، مکالمے اور یکجہتی کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن کا مظہر ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے فعال اور ذمہ دار کردار کی بھی علامت ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ہر اس کوشش کا حصہ بنے گا جو انسانی جانوں کے تحفظ، بنیادی انسانی حقوق کے فروغ، اور عالمی امن و استحکام کے لیے کی جائے گی۔


 پس منظر: فلسطین اور کشمیر، امت کے زخم

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب غزہ میں انسانی بحران اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ ہزاروں بےگناہ جانوں کے ضیاع، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی، اور عالمی برادری کی خاموشی نے مسلم دنیا میں بےچینی کو جنم دیا ہے۔

اسی تناظر میں یہ کانفرنس مسلم قیادت کے لیے ایک امتحان سے کم نہیں، جہاں ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مشترکہ موقف اپنا کر ایک مؤثر لائحہ عمل پیش کریں گے۔

دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ فلسطین کے ساتھ ساتھ کشمیر کے مسئلے کو بھی اسلامی دنیا کے اجتماعی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے۔


 کیا یہ کانفرنس ایک نیا موڑ لا سکتی ہے؟

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ کانفرنس محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا پیش خیمہ ثابت ہو، تو یہ نہ صرف مسلم دنیا کے اتحاد کی جانب ایک اہم قدم ہو گا بلکہ فلسطین و کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ محض سفارتی روایت نہیں، بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی قیادت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے — ایک ایسا کردار جو امن، انصاف اور برابری پر مبنی عالمی نظام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں