وہی ہوا جس کا ڈر تھا: ملتان سکھر موٹر وے (ایم-5) کا اہم حصہ سیلاب کی زد میں
جلال پور انٹرچینج پر پانی کا دباؤ، موٹر وے بند، سفری سہولیات درہم برہم
جس خطرے کا خدشہ تھا، وہ آخرکار حقیقت بن گیا۔ جنوبی پنجاب کے علاقے میں جاری شدید بارشوں، دریائی بہاؤ میں اضافے اور سیلابی پانی کے پھیلاؤ نے ملتان سکھر موٹر وے (M-5) کے اہم ترین حصے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ موٹر وے کو ملتان سے ترنڈہ محمد پناہ اور اُچ شریف تک بند کر دیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، سیلابی پانی نے جلال پور انٹرچینج کے اطراف سے موٹر وے کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث انتہائی اقدام کے طور پر فوری بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انسانی جان و مال کو ممکنہ خطرے سے بچایا جا سکے۔
صورتحال کی سنگینی: موٹر وے کے کنارے بیٹھا خطرہ
عینی شاہدین کے مطابق، پانی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور کئی مقامات پر موٹر وے کے کناروں پر کٹاؤ شروع ہو چکا ہے۔ جلال پور کے مضافاتی علاقوں میں زرعی زمینیں زیرِ آب آ چکی ہیں جبکہ متعدد دیہات میں لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔ اگر پانی کا بہاؤ یہی رہا تو خطرہ ہے کہ موٹر وے کا مزید حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔
موٹر وے پولیس اور NHA کا ردِعمل: ہنگامی اقدامات شروع
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور موٹر وے پولیس نے فوری طور پر راستہ بند کر کے ٹریفک کو متبادل شاہراہوں کی طرف منتقل کیا۔ متاثرہ سیکشن میں ریسکیو ٹیمیں، پولیس، اور متعلقہ ادارے موجود ہیں جو پانی کے بہاؤ اور زمین کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مسافروں کے لیے الرٹ:
-
متبادل راستے استعمال کریں جیسے کہ قومی شاہراہ (N-5)
-
سفر سے قبل موٹر وے ہیلپ لائن 130 یا NHA ایپ سے اپ ڈیٹ حاصل کریں
-
سیلابی علاقوں میں رات کے وقت سفر سے اجتناب کریں
-
گاڑیوں میں پانی، ٹارچ، پاور بینک اور فرسٹ ایڈ کا بندوبست رکھیں
سیاق و سباق: ایم 5 کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت
ملتان-سکھر موٹر وے (M-5) سی پیک (CPEC) کا ایک کلیدی حصہ ہے، جو نہ صرف پنجاب کو سندھ سے جوڑتا ہے بلکہ بین الاقوامی تجارتی راہداری کا بھی اہم جزو ہے۔ اس کی بندش کا مطلب صرف مقامی سفر میں رکاوٹ نہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں، مال برداری، زرعی پیداوار کی ترسیل، اور برآمدات کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔
یہ موٹر وے 18 ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل ہوئی تھی اور اس کے ذریعے یومیہ ہزاروں گاڑیاں چلتی ہیں۔ اس کی بندش سے نہ صرف فیول کا ضیاع بلکہ وقت کا بھی شدید نقصان ہو رہا ہے۔
سیلابی پانی کا پھیلاؤ: صرف موٹر وے نہیں، پورا خطہ متاثر
موٹر وے کی بندش صرف ایک علامت ہے۔ جنوبی پنجاب، بالخصوص مظفر گڑھ، راجن پور، ترنڈہ محمد پناہ، اور اُچ شریف میں متعدد دیہات اور فصلیں پہلے ہی زیرِ آب آ چکی ہیں۔ کئی خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور حکومتی امداد کا فقدان شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
ممکنہ خطرات:
-
موٹر وے کے مزید حصے بھی متاثر ہو سکتے ہیں
-
قریبی ریلوے ٹریکس اور پل خطرے میں پڑ سکتے ہیں
-
ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے
-
مال بردار گاڑیوں کی تاخیر سے معاشی نقصان بڑھے گا
انفراسٹرکچر پر سوالیہ نشان: کیا ہم تیار تھے؟
یہ سوال اہم ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری سے بنائی گئی موٹر وے سیلابی پانی کے چند دنوں کے دباؤ کو کیوں نہ جھیل سکی؟ کیا منصوبہ بندی میں خامیاں تھیں؟ کیا حفاظتی بند اور ڈرینج سسٹم ناکافی تھا؟ یا ہم نے موسمیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں؟
ماحولیاتی ماہرین اور انجینیئرنگ ایکسپرٹس بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ:
“پاکستان کا انفراسٹرکچر موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے تیار نہیں، اور اگر بروقت بہتری نہ کی گئی تو مہنگی سڑکیں بھی پانی کے سامنے ریت بن جائیں گی۔”
عوامی ردِعمل: غصہ، مایوسی اور بے بسی
سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے اس بندش پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ:
“یہ صرف ایک سڑک نہیں، روزگار، تجارت اور تعلیم کا راستہ ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو جنوب کا مرکز محرومی کا استعارہ بن جائے گا۔”
کچھ صارفین نے حکومت سے فوری طور پر “ریلیف کیمپ”، “عارضی پل”، اور “فائبر آپٹک بیک اپ” کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
فوری اقدامات کی ضرورت، وگرنہ نقصان ناقابلِ تلافی ہوگا
موٹر وے کی بندش ایک عارضی فیصلہ ضرور ہے، مگر اگر پانی کا بہاؤ جاری رہا اور حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو یہ قومی سطح کی نقل و حمل اور معیشت کے لیے ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔
اب کیا کرنا ہوگا؟
-
موٹر وے کے کناروں پر حفاظتی بندوں کی فوری مرمت
-
سیلابی پانی کے راستوں کی صفائی اور نکاسی
-
نئے ڈرینج سسٹمز کی تعمیر
-
مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا
-
عوامی آگاہی مہم کا آغاز
اختتامی کلمات
سیلاب آتے ہیں، مگر وہ ہمارے منصوبوں، تیاریوں، اور ترجیحات کو بھی ننگا کر جاتے ہیں۔ ملتان-سکھر موٹر وے کی بندش ایک لمحہ فکریہ ہے، جو ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ صرف سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی، انہیں محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔




