پولی گراف ٹیسٹ: جھوٹ پکڑنے کا سائنسی طریقہ یا متنازعہ آلہ؟
پولی گراف ٹیسٹ، جسے عام طور پر “جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ” کہا جاتا ہے، ایک ایسا سائنسی آلہ ہے جو انسان کے جسمانی ردعمل جیسے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، سانس کی رفتار اور جلد کی نمی کو ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا شخص سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ یہ مفروضہ ہے کہ جھوٹ بولتے وقت انسان کے جسم میں مخصوص تبدیلیاں آتی ہیں۔
اس ٹیسٹ کے دوران، ملزم کے جسم پر سینسرز لگائے جاتے ہیں جو اس کے جسمانی ردعمل کو مانیٹر کرتے ہیں۔ پھر ماہر تفتیش کار ملزم سے سوالات پوچھتے ہیں اور ان کے جوابات کے دوران جسمانی ردعمل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اگر جسمانی ردعمل میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں تو اسے جھوٹ بولنے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
پولی گراف ٹیسٹ کی سائنسی حیثیت:
اگرچہ پولی گراف ٹیسٹ کو جھوٹ پکڑنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنسی برادری میں اس کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن کے مطابق، پولی گراف ٹیسٹ پر سچ یا جھوٹ کو پکڑنے کے لیے اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ، نیشنل ریسرچ کونسل نے 2003 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا کہ پولی گراف ٹیسٹ کی کوئی افادیت نہیں ہے۔
پاکستان میں پولی گراف ٹیسٹ کی قانونی حیثیت:
پاکستان میں پولی گراف ٹیسٹ کو بطور شہادت تسلیم کرنے کے حوالے سے واضح قوانین موجود نہیں ہیں۔ تاہم، لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ پولی گراف ٹیسٹ ایک مفید تفتیشی طریقہ ہے، لیکن اس کی افادیت ماہر کی مہارت پر منحصر ہے۔
پولی گراف ٹیسٹ کے فوائد اور نقصانات:
تفتیشی عمل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مشکوک افراد کے ردعمل کا تجزیہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
نقصانات:
تمام افراد کے جسمانی ردعمل ایک جیسے نہیں ہوتے، جس سے نتائج میں فرق آ سکتا ہے۔
نفسیاتی دباؤ یا دیگر عوامل بھی جسمانی ردعمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
جھوٹ پکڑنے کے لیے اس کا استعمال مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں۔
عمران خان نے 9 مئی کے مقدمات میں تفتیش اور پولی گراف ٹیسٹ سے پھر انکار کر دیا!”




