پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبے بھر میں ڈینگی سے متعلق ہنگامی الرٹ جاری
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبہ پنجاب میں ڈینگی بخار کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں، میونسپل کمیٹیوں، صحت کے اداروں، اور عوامی حلقوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ ڈینگی وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور ایک بڑے وبائی بحران سے بچا جا سکے۔
ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز: ایک سنگین خطرہ
ماہرین صحت کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب کے مختلف شہروں بشمول لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں ڈینگی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں، بارشوں کے بعد پانی کے جمع ہونے، اور عوامی سطح پر صفائی کے مسائل کی وجہ سے ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو ڈینگی ایک بڑے پیمانے پر وبا کا روپ لے سکتا ہے، جو نہ صرف عوامی صحت کو متاثر کرے گا بلکہ صحت کے نظام پر بھی اضافی بوجھ ڈالے گا۔
پی ڈی ایم اے کی جانب سے حفاظتی اقدامات
پی ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ وہ صوبے بھر میں ڈینگی کے خلاف جنگ میں تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہا ہے۔ ان اقدامات میں شامل ہیں:
-
مچھر کی افزائش کے مقامات کی نشاندہی اور کنٹرول: پانی کے جمع ہونے والی جگہوں، تالابوں، نالوں، کھڑے پانی کے ذخائر کی باقاعدہ صفائی اور مچھر مار ادویات کا چھڑکاؤ۔
-
صحت عامہ کی آگاہی مہم: عوام میں صفائی ستھرائی، پانی کے ذخیرہ کرنے کے محفوظ طریقے، اور ڈینگی کی علامات کے بارے میں شعور بیدار کرنا۔
-
ہسپتالوں میں استعداد کار بڑھانا: ڈینگی کے مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں بیڈز، ادویات اور طبی عملے کی اضافی فراہمی کو یقینی بنانا۔
-
کمیونٹی لیول پر سرگرمی: مقامی سطح پر رضاکاروں کو منظم کرنا تاکہ وہ گھروں کے اندر اور باہر پانی کے ذخائر ختم کرنے میں مدد دیں۔
-
تعاونِ بین الاداری: محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، تعلیمی ادارے، اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا۔
عوام کے لیے خصوصی ہدایات
پی ڈی ایم اے نے عوام سے خصوصی اپیل کی ہے کہ وہ ذیل میں دی گئی حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں:
-
گھروں، باغات، اور آس پاس کے علاقے میں پانی جمع نہ ہونے دیں؛
-
پانی کے ذخائر کو ڈھانپ کر محفوظ رکھیں؛
-
مچھر کے جالے (mosquito nets) کا استعمال کریں، خاص طور پر رات کے اوقات میں؛
-
اپنے اور بچوں کے جسم کو مچھر سے بچاؤ والی کریم یا اسپرے سے محفوظ کریں؛
-
اگر کسی فرد کو بخار، جسم میں درد، شدید تھکن یا جلد پر دھبے نظر آئیں تو فوراً قریبی ہسپتال یا طبی مرکز سے رابطہ کریں۔
ماحولیاتی اور موسمی عوامل کا اثر
ماہرین موسمیات اور صحت نے انتباہ کیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور نمی میں اضافہ ڈینگی مچھر کے پھیلاؤ میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پانی کے جمع ہونے سے مچھر کے افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے، جسے فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔
اس ضمن میں، پی ڈی ایم اے نے بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حدود میں پانی کے کھلے ذخائر کا فوری طور پر خاتمہ کریں اور موسمی حالات کے مطابق اپنا منصوبہ بندی کریں۔
صحت کے اداروں کی تیاری
صوبائی حکومت نے ہسپتالوں، کلینکس، اور دیگر طبی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈینگی کے مریضوں کے علاج معالجے کے لیے اضافی انتظامات کریں۔ اس میں خصوصی وارڈز کی فراہمی، ضروری ادویات کی اسٹاک بڑھانا، اور طبی عملے کی تربیت شامل ہے تاکہ وبائی صورت حال میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔
پی ڈی ایم اے کا عوامی رابطہ اور آگاہی
پی ڈی ایم اے نے اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ڈینگی سے بچاؤ کے بارے میں معلومات جاری کی ہیں۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ دوسروں تک پہنچائیں تاکہ پورا صوبہ ایک مشترکہ اور متحدہ کوشش کے ذریعے اس خطرے سے بچ سکے۔
آخر میں: اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت
پی ڈی ایم اے پنجاب نے زور دیا ہے کہ ڈینگی کی روک تھام صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ صرف صفائی اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی ہم اس موذی مرض کا پھیلاؤ روک سکتے ہیں۔
اس حوالے سے پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے:
“ہم تمام شہریوں، انتظامی اداروں اور صحت کے عملے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ڈینگی کے خلاف جنگ میں بھرپور حصہ لیں۔ وقت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیں یکجا ہو کر اس وبا سے لڑنا ہوگا۔”




