چمن پاک افغان بارڈر پر پاسپورٹ کے نفاذ کے باوجود عوام کو شدید مشکلات کا سامنا، رشوت اور بدانتظامی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔
چمن بارڈر: ایک مصروف ترین سرحد جہاں روزانہ 20 ہزار افراد گزرتے ہیں
چمن پاک افغان سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سرحدوں میں سے ایک ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 20 ہزار افراد اس سرحد سے سفر کرتے ہیں، جن میں عام مسافر، تاجران، مزدور اور طلباء شامل ہیں۔ یہ آمد و رفت کا سلسلہ نہ صرف معاشی بلکہ سماجی طور پر بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں پاسپورٹ کے نفاذ کے باوجود اس سرحد پر سفر کرنے والے عوام کو ناقابل برداشت مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے معمول کی زندگی میں خلل پڑ رہا ہے۔
صرف دو کاؤنٹرز، 20 ہزار افراد: ناقابل یقین رش
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے پاس چمن بارڈر پر صرف دو کاؤنٹرز ہیں جن سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد کو گزرنا ہوتا ہے۔ اس تعداد کے مقابلے میں کاؤنٹرز کی کمی نے طویل قطاریں بنادیں ہیں، جہاں لوگ کئی گھنٹے کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔
شدید گرمی میں کھڑے رہنا: خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں، یہاں کے لوگ کئی گھنٹے سخت دھوپ میں کھلے آسمان تلے انتظار کرتے ہیں، جو نہ صرف ان کی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ بزرگوں، بچوں اور بیماروں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
بدانتظامی اور رشوت ستانی: عوامی اعتماد مجروح
اس صورتحال کو مزید بدتر بنانے والی بات رشوت ستانی کی ہے۔ متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ FIA کے اہلکار فی سٹمپ ہزار روپے تک رشوت لیتے ہیں۔ یہ غیر قانونی عمل نہ صرف ایک بدعنوانی ہے بلکہ عوام کے لیے ظلم بھی ہے، کیونکہ ان کے حقِ سفر کو غیر ضروری رکاوٹوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
رشوت ستانی کی یہ فضاحت سرحدی معاملات کی شفافیت اور نظم و نسق کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس سے عوام میں حکومتی اداروں کے خلاف شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
انسانی ہمدردی اور حکومتی ذمہ داری: فوری نوٹس لینے کی اشد ضرورت
چمن بارڈر پر عوام کو درپیش مشکلات اور بد انتظامیوں پر فوری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ یہ سرحدی علاقہ صرف ایک سفری مقام نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا اہم جزو ہے۔
حکام بالا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں، اور FIA کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایسی پالیسیز مرتب کریں جو نہ صرف عوامی سہولت کو یقینی بنائیں بلکہ رشوت ستانی اور بدانتظامی کے خاتمے کی راہ ہموار کریں۔
متوقع اصلاحات اور تجاویز برائے بہتری
کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ: سرحد پر مزید کاؤنٹرز قائم کیے جائیں تاکہ لوگوں کی قطاریں کم ہوں اور انتظار کا وقت کم سے کم ہو۔
شیڈولڈ اور آن لائن اپوائنٹمنٹ سسٹم: جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن سسٹم متعارف کرایا جائے تاکہ لوگ اپنے سفر کا وقت پہلے سے مقرر کر سکیں اور لائنوں میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔
شیڈز اور سہولیات کا انتظام: انتظار کرنے والوں کے لیے شیلٹرز اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ گرمی کی شدت میں کمی آئے اور صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
رشوت ستانی کے خلاف سخت کارروائی: FIA اہلکاروں کے لیے سخت نگرانی اور احتساب کے نظام کو فعال کیا جائے تاکہ رشوت کا سلسلہ ختم ہو اور قانون کا بول بالا ہو۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عملے کی تربیت: سرحد پر کام کرنے والے تمام عملے کو ہمدردی اور احترام کے جذبے سے کام کرنے کی تربیت دی جائے تاکہ عوام کو عزت دی جا سکے۔
ہنگامی سہولیات کا قیام: کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے طبی اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
عوامی آراء اور ردعمل
سرحد عبور کرنے والے عوام میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے شدید تشویش اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ اکثر افراد کا کہنا ہے کہ یہ حالات نہ صرف ان کی جان و مال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے انسانی وقار کی بھی توہین ہیں۔
شہری مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلے کو ترجیح دے، کیونکہ بارڈر ایک ایسے مقام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انسانوں کی عزت اور آسانی سب سے اہم ہونی چاہیے۔
� چمن بارڈر پر اصلاحات نہایت ضروری
چمن پاک افغان بارڈر کی موجودہ صورتحال ایک عکاس ہے کہ انتظامی نظام کس قدر کمزور ہے اور عوام کو مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے۔ فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، جو نہ صرف بارڈر کراسنگ کے دوران مسائل پیدا کریں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالیں گے۔
اس لیے ضروری ہے کہ حکام بالا فوری نوٹس لے کر ایک مربوط اور جامع منصوبہ بندی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں تاکہ عوام کو سہولت، شفافیت اور عزت دی جا سکے۔




