کالا باغ ڈیم پر اختلاف: پی ٹی آئی نے علی امین گنڈا پور کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کر دی

علی امین گنڈا پو

عمران خان کی مخالفت کے باوجود، علی امین گنڈاپور نے کالا باغ ڈیم کی حمایت کر دی — سیاسی صفوں میں ہلچل۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے اس بیان سے واضح فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جس میں انہوں نے کالا باغ ڈیم کو “ملک کے مفاد میں” قرار دے کر اس کی حمایت کی تھی۔

🗣️ علی امین گنڈا پور کا بیان

گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک تقریب کے دوران کہا کہ:

“کالا باغ ڈیم ملک کے مفاد میں ہے، اور ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔”

ان کا کہنا تھا کہ پانی کے ذخائر کی کمی اور توانائی بحران کے پیشِ نظر ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔

🚫 پارٹی قیادت کی مخالفت

تاہم، پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے منگل کے روز علی امین گنڈا پور کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ:

“یہ ان کی ذاتی رائے ہے، پارٹی کی پالیسی اس سے مختلف ہے۔”

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ کالا باغ ڈیم ایک حساس قومی معاملہ ہے، جس پر چاروں صوبوں کے درمیان اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

🧭 سیاسی پس منظر

یاد رہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ سالوں سے ایک متنازعہ قومی ایشو رہا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا، سندھ، اور بلوچستان کی قیادت اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتی آئی ہے۔

اس پس منظر میں وزیر اعلیٰ کے بیان پر تنقید اور وضاحت کا سلسلہ جاری ہے، اور پی ٹی آئی کی قیادت پارٹی اتحاد برقرار رکھنے کے لیے محتاط بیانیے کو ترجیح دے رہی ہے۔
پارٹی مؤقف اور ذاتی رائے میں فرق

یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پارٹی قیادت اور وزرائے اعلیٰ کے بیانات میں اختلافات کبھی کبھار پارٹی لائن سے ہٹنے والے بیانات کو جنم دیتے ہیں، جنہیں بعد میں وضاحت یا تردید کے ذریعے متوازن کیا جاتا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں