کراچی میں ملیر اور لیاری ندیوں کا طغیانی نے شہر کو ڈبو دیا!
“کراچی میں بارش ہو یا تعلیم، دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے – کیا یہی ہے سندھ حکومت کی کارکردگی؟”
کراچی: پانی کے رحم میں — تفصیلی جائزہ
موجودہ صورتحال — طوفانی بارشوں کا شدید اثر
-
شدید مون سون بارشوں نے کراچی کا بیشتر حصہ زیرِ آب لے لیا، جہاں ٹھاڑو ڈیم اتربار ہوا، اور اس کا پانی ملیر و لیاری ندیوں میں بھر گیا۔ اس نتیجے میں Scheme‑33، M‑9 موٹروے، فیز‑۱ گلشنِ اقبال، ایف بی ایریا، سہراب گوٹھ، نثر بستى، اور عیسا نگرى جیسے رہائشی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے۔
-
کراچی کے میئر مرتضیٰ وهاب نے ندیوں کو “بھرے ہوئے ندیوں جیسا بہاؤ” بتایا اور شہریوں پر غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کا تلقین کیا۔
-
ریسکیو 1122، آرمی اور رینجرز نے سہراب گوٹھ، نثر بستی، شاہباز گوٹھ، لاسی پارہ، اور دیگر مقامات سے بچے، خواتین اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
-
کراچی میں بارشیں تاریخی سطح پر ریکارڈ کی گئیں— ہوائی اڈے کے قریب 163.5 ملی میٹر، جبکہ شہر کے شمال مشرقی حصے میں 178 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 1979 کے بعد کا ریکارڈ ہے۔
-
شہر کا ڈرینج نظام زیادہ سے زیادہ 40 ملی میٹر بارش کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اس لیے موجودہ بارش سے وہ مکمل طور پر ناکارہ ہوا۔
-
بجلی، موبائل نیٹ ورکس، اور فضائی آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہوئی — شہر تقریباً مفلوج ہو گیا۔
-
کم موسم طوفانی بارشوں کے اعلان کے ساتھ، تعلیمی اداروں، کاروباروں اور سرکاری دفاتر کو بند کرنے کا حکم دیا گیا، اور شہر میں ایک سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
انسانی نشانات — تباہی اور جانوں کا نقصان
-
رواں برس کی بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک بھر میں مون سون اور سیلابی واقعات کے باعث 750 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے — کراچی ان متاثرہ شہروں میں سب سے آگے ہے۔
-
کراچی میں ریسکیو اور امدادی کاروائیاں جاری ہیں، اور ضلعی انتظامیہ نے 26 ڈی واٹرنگ پمپس تعینات کیے تاکہ پانی نکالا جا سکے۔
-
بارش کی زد میں آنے والے افراد کے لئے ہنگامی اقدامات اور ریلیف سرگرمیاں تیز کی گئیں۔
پس منظر اور انفراسٹرکچر کی کمزوریاں
-
طویل مدت سے کراچی کی ڈرینج پلاننگ ناقص رہی ہے؛ ندیوں اور نکاسی راستوں کو گندگی اور سیوریج کے اخراجات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جس سے قدرتی آبی راستے بند ہوگئے۔
-
نالوں اور نہروں کا انکروچمنٹ شدید مسئلہ ہے۔ خاص طور پر لاری ندی کا سمندرکنارہ حصہ غیر قانونی تعمیرات اور رکاوٹوں کی زد میں ہے، جس نے پانی کے خارج ہونے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔
-
سال 2024 میں وزیراعلیٰ سندھ نے شہری سیلاب کنٹرول سسٹم کی فراہمی کا حکومتی اقدام شروع کیا، جس میں زیرِ آب رہنے والے علاقوں کی شناخت اور لیاری و ملیر ندیوں تک پانی پہنچانے کے لیے نئے ٹنلز کی تجویز شامل تھی، مگر اس میں عملی پیش رفت محدود رہی۔
مستقبل کا چیلنج — بہتری کی ضرورت
-
طویل مدتی ڈرینج انفراسٹرکچر
شہر کے ڈرینج نظام کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ وہ بلند بارش کی صورت میں بھی نمٹ سکے۔ ضروری ہے کہ ندیوں کی بحالی اور نکاسی راستوں کا تحفظ ممکن بنایا جائے۔ -
منصوبہ بندی اور انگویکشن کا خاتمہ
نالوں اور ندی نالوں میں جمای ہوئی گندگی، سیوریج کے اخراج، اور غیر قانونی تعمیرات کی صفائی سے پانی کا بہاؤ بہتر ہو سکتا ہے۔ -
ایمرجنسی ردِ عمل کی تیاری
شہریوں کو بارش سے پہلے انتباہی نظام، ہنگامی پناہ گاہیں، منتقل کرنے کی سہولتیں اور ریلیف میکانزم مہیا کرنا واجب ہے۔ -
ماحولیاتی تحفظ اور کنچنگ
برائے دریاؤں کی صاف آبی بہاؤ انا چاہیئے— اس سے نہ صرف سیلابی خطرہ کم ہوگا بلکہ شہر کے ساحلی ماحولیات اور سمندری حیات کی حفاظت بھی ہوگی۔
کراچی کا تازہ سیلاب محض ایک موسمیاتی حادثہ نہیں، بلکہ انتظامی نا اہلی، انفراسٹرکچر کی کمزوری اور دیرینہ بے تدبیری کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم نے آج نہ سدھارا تو مستقبل کے آئندہ مون سون مزید تباہ کن ثابت ہوں گے۔




