“یمن کے دارالحکومت صنعا پر اسرائیلی فضائی حملے، 35 شہری جاں بحق، درجنوں زخمی — المیے کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔”
صنعا پر اسرائیلی فضائی حملے: 35 شہری جاں بحق، 130 سے زائد زخمی — یمن میں انسانی المیہ شدت اختیار کر گیا
تحریر: (آپ کا نام یا ادارہ)
یمن کے دارالحکومت صنعا پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں نے ملک کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
حوثی گروپ کی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس السباہی نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 35 معصوم شہری جاں بحق جبکہ 131 سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں، اور جیسے جیسے ملبہ ہٹایا جا رہا ہے، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
بمباری کی شدت اور اہداف
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ کے 10 جنگی طیاروں نے مل کر یہ کارروائی کی، جس میں 30 سے زائد بم اور میزائل فائر کیے گئے۔
یہ حملے رات کے وقت کیے گئے جب زیادہ تر لوگ گھروں میں سو رہے تھے۔
فضائی حملوں میں نشانہ بنائے گئے مقامات میں شامل ہیں:
-
وزارتِ دفاع کی عمارت
-
متعدد فوجی کیمپ
-
ایندھن کے بڑے ذخائر
-
قریبی شہری آبادیاں
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بمباری اتنی شدید تھی کہ کئی عمارتیں لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
گھروں میں سوئے ہوئے افراد کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ شہر بھر میں دھماکوں کی آوازیں کئی میل دور تک سنی گئیں۔
شہریوں کی حالتِ زار
جاں بحق ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ افراد شامل ہیں، جن کا نہ تو کسی جنگ سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی ان کے پاس بچنے کا کوئی راستہ۔
ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، لیکن زیادہ تر طبی مراکز میں ادویات، آلات اور عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد شہر میں:
-
ایمبولینس سروس متاثر ہوئی ہے
-
بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی
-
پینے کے پانی کی فراہمی بھی بند ہو چکی ہے
شہری علاقوں میں شدید خوف و ہراس ہے۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی تلاش میں نکل پڑے ہیں۔
اسرائیلی مؤقف اور فوجی دعویٰ
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں “آپریشن رنگنگ بیلز” کے تحت کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا:
“یہ حملے حوثیوں کے خلاف ایک بڑا پیغام ہیں، اور ہم اُن عناصر کو کبھی نہیں چھوڑیں گے جو اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہماری پہنچ بہت دور تک ہے، اور ہم اپنے دشمنوں کو ہر جگہ سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔”
یہ بیان عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے، کیونکہ شہری علاقوں پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی؟
صنعا پر اسرائیلی بمباری پر ابھی تک اقوام متحدہ، یورپی یونین یا دیگر بڑے عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ:
“یمن پہلے ہی قحط، خانہ جنگی اور انسانی بحران کا شکار ہے، اور ایسے میں غیر ملکی حملے صورتحال کو بدترین انسانی المیے میں بدل سکتے ہیں۔”
حوثی گروپ کا ردعمل
حوثی قیادت نے حملے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے، اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن کی خودمختاری کا احترام کرے اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
نتیجہ: سوالات، تشویش اور عالمی ذمہ داری
صنعا پر اسرائیلی حملے صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہیں۔
جب عام شہری، خواتین اور معصوم بچے نشانہ بننے لگیں تو یہ صرف ایک جنگ نہیں رہتی، بلکہ عالمی ضمیر کے لیے امتحان بن جاتی ہے۔
اب وقت ہے کہ عالمی برادری:
-
خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنا کردار ادا کرے
-
غیر جانبدار تحقیقات کا آغاز کرے
-
جنگی جرائم پر مؤثر کارروائی کرے
ایک معصوم سوال باقی ہے:
“اگر مرنے والا بچہ عرب ہو، تو کیا اُس کا خون سستا ہوتا ہے؟”




